آئی سی یو میں داخل تھے،تو ڈسچارج کرکے جیل کیوں بھیجا گیا، عمر انصاری نے اٹھائے سوال

تاثیر،۵       اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

لکھنو، 05 اپریل:اتر پردیش کے لیڈر مختار انصاری کے بیٹے عمر انصاری نے ایک بار پھر اپنے والد کی موت پر بیان دیا ہے۔ عمر کا کہنا تھا کہ ہم ان کے قتل کے حوالے سے الزامات نہیں لگا رہے ہیں، بلکہ انھوں نے (مختار انصاری) نے اپنی موت سے قبل خود کہا تھا کہ انھیں زہر دیا گیا ہے۔ ایک عدالتی کمیٹی بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مختار انصاری کا انتقال 28 مارچ کو بانڈہ کے میڈیکل کالج میں ہوا۔.28 مارچ کو اتر پردیش اسمبلی میں ایم ایل اے رہنے والے مختار انصاری کی موت کے بعد اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ انہیں زہر دیا گیا ہے۔ تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دل کا دورہ بتایا گیا۔ اتر پردیش حکومت نے اس معاملے کی مجسٹریل انکوائری قائم کی ہے اور ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔مختار انصاری کے چھوٹے بیٹے عمر انصاری نے آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا – ہم الزامات نہیں لگا رہے، یہ الزامات والد نے خود لگائے تھے۔ 19 مارچ کو انہیں زہر دیا گیا، 21 مارچ کو انہوں نے خود عدلیہ کے سامنے کہا کہ ہمیں زہر دیا گیا ہے۔عمر انصاری نے اپنے والد کی صحت پر بات کرتے ہوئے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک شخص جو صحت کے لحاظ سے بالکل فٹ تھا، کھانا کھانے کے بعد اچانک بیمار ہوگیا۔ اس نے خود محسوس کیا۔ اس نے معزز عدالت کو تحریری طور پر دیا اور وہی ہوا، 26 تاریخ کو ان کی طبیعت کافی خراب ہوگئی۔ جب وہ بے ہوش ہوئے تو انہیں بانڈہ کے میڈیکل کالج لے جایا گیا۔ ان کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہیں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا۔عمر انصاری نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنی نازک حالت میں ایک شخص، جب وہ صبح 4 بجے آئی سی یو میں داخل ہوتا ہے، شام کو چھٹی دے کر جیل بیرک میں اکیلا کیسے چھوڑ دیا جا سکتا ہے؟ عمر انصاری نے کہاکہ یہ قدرتی موت نہیں بلکہ منصوبہ بند قتل ہے۔