تاثیر،۶ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
کولکاتا، 06 اپریل:مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کے روز الزام لگایا کہ پوربا میدنی پور ضلع کے بھوپتی نگر علاقے میں دیہاتیوں نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے اہلکاروں پر حملہ نہیں کیا، بلکہ این آئی اے کے اہلکاروں نے ان (دیہاتیوں) پر حملہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ تحقیقاتی ایجنسی کی ٹیم 2022 میں پٹاخہ پھٹنے کے ایک واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں صبح سویرے گاؤں والوں کے گھر گئی تھی۔ بنرجی نے جنوبی دیناج پور ضلع کے بلورگھاٹ میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ یہ حملہ بھوپتی نگر کی خواتین نے نہیں کیا بلکہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے اہلکاروں نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین پر حملے ہوتے ہیں تو کیا وہ خاموش رہیں گے؟ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صرف دسمبر 2022 کے واقعہ کے حوالے سے این آئی اے حکام کے ان کے گھروں پر جانے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔پولیس نے بتایا کہ ہفتہ کے روز بھوپتی نگر علاقے میں 2022 کے بم دھماکہ کیس کی تحقیقات کرنے گئی این آئی اے ٹیم پر گاؤں والوں نے حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے افسران کی ایک ٹیم نے ہفتہ کی صبح اس کیس کے سلسلے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا اور ٹیم کولکاتا واپس لوٹ رہی تھی جب اس کی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے گاڑی کو گھیر لیا اور اس پر پتھراؤ کیا۔ این آئی اے نے کہا ہے کہ اس کا ایک افسر زخمی بھی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے نے اس سلسلے میں پولیس میں شکایت بھی درج کرائی ہے۔ 3 دسمبر 2022 کو بھوپتی نگر کے ایک کچے کے گھر میں ہونے والے دھماکے میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد میں کیس کی تحقیقات این آئی اے کو سونپ دی گئی۔

