ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا یومِ پیدائش تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا

  سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفی)جالے بلاک حلقہ کے قاضی بھیڑ ہ پنچایت کے نگرڈیہ گاؤں کے مہا دلت ٹولہ میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا یومِ پیدائش تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا اس موقع پر مالے کے سرگرم لیڈر انجنیئر شہزاد تمنے نے کہا کہ بھارت رتن ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا شمار ہندوستان کے ممتاز ترین قومی معماروں میں ہوتا ہے وہ ایک سرکردہ رہنما کے ساتھ وطن پرست دانشور بھی تھے اور دلتوں کے مسیحا بھی وہ اپنے ملک کی عظیم خوبیوں کو عالم گیر سطح پر روشن کرنے والے ایک ایسے آفتاب تھے جن کے بغیر ہندوستان کا ذکر ادھورا ہے 14 اپریل کوہر سال ان کا یوم پیدائش تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ان کی گراں قدر قومی خدمات کا پورا ہندوستان اعتراف کرتا رہا ہے کوئی بھی شہری خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یانظریے سے ہو وہ بابا صاحب امبیڈکر کا نام عزت واحترام سے لیتا ہے اور ملک کے تئیں ان کی خدمات کو سلام کرتا ہے ہندوستان کا ایک بڑا طبقہ ان کو بطور سماجی و قومی مصلح تسلیم کرتا ہے یہ طبقہ ان کو فقط دلتوں تک محدود کرنے کے بجاۓ عالمی سطح کے فکروفلسفہ کے ماہرین میں شمار کرنے کا قائل رہا ہے یہ سچ ہے کہ امبیڈکر کو صرف دلت رہنما کے دائرے میں قید کر کے رکھنا کسی بھی طور ان کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔ وہ ہندوستان کے آئیکن تھے انہوں نے جس طرح اپنی پوری زندگی دلت حقوق کی دستیابی اور حصولیابی کی جدوجہد میں صرف کر دی اس کی دوسری کوئی نظیر دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اسی بنیاد پر پوری دنیا میں وہ دلتوں کے مسیحا کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تاہم امبیڈکر نے نہ صرف دلتوں کے مسائل اور حقوق کی بات کی بلکہ ہندوستان کے آئین میں پسماندہ اور اقلیتی طبقہ کے حقوق کی بھی نشاندہی کی موقع پر مالے کے پنچایت سکریٹری گڈو بیٹھا ، رام شیریست رام ،مہیش بھنڈاری، امیش رام ، لال بابو رام ، سمترا دیوی، ممتا کماری ، شیلا دیوی ، اسنیہا کماری ، سرسوتی کماری ، پریکشا رام ،شری نارائن رام ، دشرتھ رام ، اجے شرما ، اچھے لال شرما ، خوش نند یادو و دیگر موجود ہے