تاثیر،۱۸ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر محترم جناب سلیم یاور صاحب اور مشہور شاعرہ محترمہ نفیسہ حیا صاحبہ کے اعزاز میں 12 اپریل بروز جمعہ شام سات بجے کویت کی تین معروف ادبی تنظیموں کی جانب سے ڈاکٹر عامر قدوائی صاحب کی صدارت میں اعزازی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا ملائشیا اور دبئی بیسیڈ کمپنی عود الزھراء ریڈیڈینس پہ کمپنی کے منیجر محترم جناب احمد بھائی اور مندوب محترم جناب عاشق بھائی نے کمپنی کے مالک محترم جناب ناظم بھائی کی نیابت کرتے ہوئے مہمانان کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور موقعے کی مناسبت سے انہیں عید کی مبارکباد بھی پیش کی اس مشاعرے میں انجمن تہذیب اردو کویت اور کویت بزم ادب کے ساتھ ساتھ آداب غزل اکیڈمی کی جانب سے مشترکہ طور پر مہمانان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں لوح اعزاز سے نوازا گیا مہمانان کے استقبال کے لیے کویت ریڈیو سے جناب عبداللہ عباسی صاحب۔ بادشاہ وقت سے ایوارڈ یافتہ محترم جناب رانا اعجاز حسین صاحب ۔نقیب کویت حکیم طارق محمود صاحب ۔ لیبر ونگ کے صدر جناب زبیر شرفی صاحب۔ معروف سماجی و ادبی شخصیت محترم جناب سائیں نواز صاحب ۔جبکہ ہندوستانی سفارت خانے سے یو پی این آر آئی کے فاؤنڈر ممبر محترم جناب شکیل احمد صاحب۔ اور معروف ترین رفاہی شخصیت محترم جناب قسیم ندوی صاحب۔ عطیئہ خون کے حوالے سے معروف سماجی خدمت گزار محترم جناب نعمان اسلم گھمن اور جوان العمر عرفان لیجینڈ ۔ اردو کے سرپرست محترم جناب عابد بھائی چھندواڑہ والے علاوہ ازیں میڈیا کی جانب سے آغاز نیوز ۔پاک میڈیا۔ دنیا نیوز کے معتبر صحافیوں کے علاوہ درجنوں اردو ادب کے محبین اور سرپرستان موجود تھے اس مبارک موقع پر دوحہ قطر و بہار سے مشترکہ طور پہ شائع شدہ نئی کتاب تیور یعنی ہم عصر اردو غزل کا عالمی انتخاب جس کے مدیر عام عالمی مستند ادیب محترم جناب ڈاکٹر بسمل عارفی صاحب بہار سے جبکہ اس کے نائب مدیر ہر دل عزیز شاعر و ادب نواز محترم جناب احمد اشفاق صاحب قطر سے ہیں چونکہ اس کتاب کی مجلس ادارت میں کویت کے اولین صاحب دیوان شاعر جناب مسعود حساس صاحب اور مجلس مشاورت میں کویت ہی کے مشہور طنزیہ شاعر جناب ایوب خان نیزہ صاحب شامل ہیں اس بنیاد پہ اس کتاب کی رسم اجرا مہمانان کی معیت میں دیگر بڑی شخصیات کے ہاتھوں عمل میں آئیمہمانان کے اجمالی تعارف کے ساتھ ساتھ گلدستے سے ان کا استقبال کیا گیا ازاں بعد نعت پاک سے مشاعرے کا اغاز ہوا جس میں کویت کے ادبی منظر نامے کی نمائندگی کرنے والے بیشتر شعرا موجود تھے جنہوں نے اپنے بہترین اشعار سے لوگوں کو داد دینے پر مجبور کر دیا مشاعرے میں پیش کیے گئے چند اشعار آپ کی خدمت میں حاضر ہیں

دیکھتے ہیں وہ حقارت سے ہمیں
ہم میسر ہیں جوآسانی سے
ڈاکٹر عامر قدوئی
میں نے تو زندگی میں بہت احتیاط کی
کب جانے آستیں میں مری سانپ پل گئے
فیاض وردگ
تھا رقص میں نصیب کا خنجر میں چپ رہا
مجبوریوں کے شور میں اکثر میں چپ رہا
سلیم یاور
لوٹ آئیں گے یہی سوچ کے ہم شام و سحر
اپنی آنکھیں در و دیوار پہ رکھ دیتے ہیں
نفیسہ حیا
اس نے بستر کی شکن مجھ کو بنانا چاہا
جس کو چادر کی طرح اوڑھ لیا تھا میں نے۔۔
شاہجہاں جعفری حجاب
سامنے میرے کچھ نہیں کہتا
میری تصویر پھاڑ دیتا ہے
سعید نظر کڑپوی
اک تم بکے تو کون سا ٹوٹا پہاڑ یار
دنیا میں روز بکتے ہیں مردہ ضمیر لوگ
مسعود حساس
نہ دل میں ندامت نہ آنکھوں میں آنسو
یقینا یہ توبہ کی بے حرمتی ہے
نسیم زاہد
اُس پری زاد کو ہمزاد نہ رکھا جاے
دل کسی ساتھی سے آباد نہ رکھا جاے
خضر حیات خضر
فصلیں سب گرانا چاہتا ہوں
سبھی رشتے نبھانا چاہتا ہوں
ابراہیم قاصد
چراغوں میں بھی در آئی سیاست
اندھیرا اور گہرا ہو رہا ہے
کمال انصاری
ہر چہرے سے نقاب اٹھاتی ہے زندگی
کتنے نئے سبق یوں سکھاتی ہے زندگی
نازنین علی
دل کی بستی میں جب مکیں تھا وہ
دل کی بستی میں ہر سہولت تھی
طاہر راؤ بشر
شجر اداس ہیں سارے ہی میرے گاؤں میں
کوئی کہیں سے پرندے بلا کے لے آئے
محمد ریاض
چارہ گرانِ شہر کھڑے ہیں جو ہر طرف ۔۔
اب کے نجانے کون سا دردِ دروں ہوا ؟
سلیم جمال
مشاعرے کے اختتام پہ یوپی این آر آئی کی جانب سے پر تکلف عشائیے اور عید کی مناسبت سے شیر خورمے کا بھی بندو بست کیا گیا تھا جسے وطن کی سوغات سمجھتے ہوئے ہر کسی نے محبت سے قبول کیا اور اس کے ذائقے کی بھر پور داد دی مشاعرے کو کامیاب بنانے کیلئے حبیب علوی انڈ کمپنی کے انتظامات اور ان کی قابل دید محنت و مشقت کو ہر ادبی نگاہ نے قدر کی نگاہ سے دیکھا اور ان کے حسن انتظام کی تعریف بھی کی یہ مشاعرہ کویت کے مشہور شہر بنید القار میں شام 8 بجے شروع ہو کر رات ساڑھے گیارہ بجے تک کامیابی سے چلتا رہا جس کے پل پل سے حاضرین نے لذت کشید کی اور داد و تحسین بھی لٹاتے رہے

