تاثیر،۲۰ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
کیپری، 19 اپریل: اٹلی کے وزیر خارجہ انٹونیو تاجانی نے کہا کہ امریکہ نے جمعہ کی صبح جی-7 گروپ کے تین روزہ اجلاس کو بتایا کہ اسے ایران میں ڈرون حملے کے بارے میں ’’آخری لمحات میں‘‘ اسرائیل سے اطلاع ملی تھی لیکن واشنگٹن نے اس کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ جس کے بعد اجلاس کا ایجنڈا آخری لمحات میں تبدیل کر کے مشتبہ حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا گیا۔ تاجانی نے جی-7 گروپ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی صدارت کی۔
ایران نے جمعہ علی الصبح ڈرون نظر آنے کے بعد اصفہان کے قریب ایک فضائی اڈے اور ایک جوہری مقام کے دفاع کے لیے فضائی دفاعی نظام کا استعمال کرکے گولی باری کی۔ یہ اسرائیلی حملہ غالباً گزشتہ ہفتے کے آخر میں تہران کی طرف سے اسرائیل پر غیر متوقع ڈرون اور میزائل حملے کے جواب میں کیا گیا۔
اٹلی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے جی-7 ممالک کے وزرائے خارجہ کو بتایا کہ اسے اسرائیل کی طرف سے ڈرون کے بارے میں آخری وقت پر اطلاع ملی تھی۔ انہوں نے کہا لیکن امریکہ اس حملے میں ملوث نہیں ہے۔ اسے محض اس کی اطلاع ملی تھی۔
حالانکہ امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے اس بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کسی حملے میں ملوث نہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ بلنکن نے کہا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہوں گا کہ امریکہ کسی حملے میں ملوث نہیں ہے۔ بلنکن نے کہا کہ اسرائیل اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور امریکہ اپنی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔
تاجانی نے کہا کہ جی-7 ممالک نے جمعہ کے روز ایران میں ہونے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے تل ابیب اور تہران میں اطالوی سفارت خانوں سے رابطہ کیا اور پتہ چلا کہ اصفہان میں رہنے والے اطالوی محفوظ ہیں۔
جی-7گروپ دنیا کی سات سب سے زیادہ ترقی یافتہ معیشتوں والے ممالک کا ایک گروپ ہے جس میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ہفتے کے آخر میں تہران کی جانب سے اسرائیل پر غیر متوقع ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائی کی۔
وزراء نے تین روزہ اجلاس کے بعد ایک بیان میں دونوں فریقوں سے ٹکراو ٹالنے کی اپیل کی۔ بیان میں اسرائیل کی سلامتی کا عہد لیا گیا اور 14-13 اپریل کو اسرائیل پر ایران کے حملے کی شدید مذمت کی گئی۔ اس میں کہا گیا کہ ہم خطے میں مزید عدم استحکام کے جواب میں مزید پابندیاں لگانے اور دیگر اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
گروپ نے ایران کو بیلسٹک میزائل اور اس سے منسلک ٹیکنالوجی روس کو منتقل کرنے کے خلاف بھی خبردار کیا۔ غزہ کی جنگ پر گروپ نے حماس سے یرغمالیوں کو رہا کرنے کی اپیل کی۔ نیز اسرائیل سے کہا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔

