تاثیر،۲۵ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
غزہ، 25 اپریل: ایک ماں اپنے لاپتہ بچے کو تلاش کرنے کہیں بھی جائے گی اور جب تک اس کے جسم میں جان ہے، وہ نہیں رکے گی۔ اس کا بچہ زندہ ہے یا نہیں، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔چار دن تک کریمہ الراس خان یونس کے النصر ہسپتال میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں میں تمام تر بدبو، مٹی اور آس پاس کے شور کے باوجود اپنے 21 سالہ بیٹے کو تلاش کرتی رہیں۔احمد 25 جنوری کو خان یونس میں ہلاک ہو گیا تھا لیکن اس کی لاش اس وقت سے ہی لاپتہ تھی۔ اور پھر منگل کے دن کریمہ کو اپنا بیٹا مل گیا۔وہ کہتی ہیں کہ ‘ میں یہاں اس وقت تک آتی رہی جب تک مجھے اپنا احمد مل نہیں گیا۔ اس نے 12 سال کی عمر میں اپنے والد کو کھو دیا تھا اور میں نے ہی اسے پالا۔’ قریب ہی دیگر خاندان بھی قبروں کے کونوں کے قریب سے گزر رہے تھے۔ دنیا کے جنگ زدہ علاقوں میں ایسے مناظر اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ایک جانب بلڈوزر قبروں میں موجود لاشوں کو نکالنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ زمین کے نیچے سے ایک بازو دکھائی دے رہا ہے۔ چند افراد نکلنے والی لاشوں کو دفنانے کے لیے نئے مقام کی شناخت کر رہے ہیں۔ اور لاپتہ افراد کے خاندان والے اس امید میں کھڑے ہیں کہ ان کے پیارے بھی یہیں کہیں ہوں گے۔تاہم یہ تمام مناظر ایک جیسی وضاحت پیش نہیں کرتے۔ ہر اجتماعی قبر – چاہے وہ وسطی افریقہ میں ہو، مشرق وسطی میں یا کہیں اور – مقامی حالات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ایک ایسی جنگ میں، جو اب تک زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر 34 ہزار افراد کی جانیں لے چکی ہے، مرنے والوں کی تدفین ایک پیچیدہ اور اکثر خطرناک عمل بن جاتا ہے۔چند قبرستان مکمل طور پر بھر چکے ہیں۔ جنگ کی وجہ سے چند تک رسائی ممکن نہیں۔ اور اسی دباؤ کی وجہ سے کئی لاشوں کو ایسے ہسپتالوں کی زمین میں دفنایا گیا جہاں اسرائیلی فوج کے مطابق وہ حماس سے لڑ چکی ہے۔میں نے جن جنگوں کے دوران رپورٹنگ کی وہاں اکثر یہ بتانا ممکن تھا کہ مرنے والوں کے ساتھ کیا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ماہرین جائے وقوعہ پر جلد پہنچ جاتے ہیں اور صحافیوں کو بھی رسائی حاصل ہوتی ہے۔غزہ کی پٹی کے موجودہ حالات میں جہاں اسرائیل اور مصر دونوں نے ہی بین الاقوامی صحافیوں کو اجازت دینے سے انکار کر رکھا ہے اور لڑائی کی وجہ سے ماہرین کے لیے کسی جگہ پہنچنا خطرے سے خالی نہیں، فوری طور پر یہ طے کرنا بہت بڑا چیلنج ہے کہ خان یونس کے النصر ہسپتال اور غزہ شہر کے الشفا ہسپتال میں موجود اجتماعی قبروں سے نکلنے والی لاشوں کی ہلاکت کی وجہ کیا تھی۔کیا چند کو اسرائیلی فوجیوں نے مارا جیسا کہ حماس اور مقامی ریسکیو اہلکار دعوی کر رہے ہیں؟ یا پھر ان قبروں میں موجود سینکڑوں لاشیں فضائی حملوں اور اسی علاقے میں ہونے والی لڑائی کا نشانہ بنی تھیں؟ کیا اسرائیلیوں نے لاشوں کو ایک قبر سے نکال کر نئی قبر میں دفنایا؟فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق آفس کے ڈائریکٹر اجیت سنگھے نے مجھے بتایا کہ ان قبروں کی آزادانہ فرانزک تفتیش ضروری ہے۔ منگل کے دن اقوام متحدہ کے ایک اور اہلکار کے مطابق چند ایسی لاشیں بھی ملیں جن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔اس سے قبل فلسطینی سول ڈیفینس کے ایک اہلکار کا بیان سامنے آیا تھا کہ ‘کئی لاشوں کے ہاتھ بندھے ہوئے جبکہ چند کو سر میں گولی ماری گئی اور چند نے قیدیوں جیسے یونیفارم پہنے ہوئے تھے۔’ریم زیدان دو ہفتوں سے اپنے بیٹے نبیل کی لاش کی تلاش میں تھیں جو بدھ کی دوپہر کو ملی۔ریم بتاتی ہیں کہ انھوں نے لاشوں پر تشدد کے نشانات دیکھے جن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ ‘ان کو قتل کیا گیا، چند کے ہاتھ اور پاؤں اکھٹے باندھے ہوئے تھے۔ یہ کب تک ایسے ہی چلے گا؟’میں نے اجیت سنگھے سے سوال کیا کہ کیا ان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ چند لاشوں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے؟انھوں نے جواب دیا کہ ‘ہمارے پاس شواہد نہیں، معلومات ہیں اور ان معلومات کی مختلف ذرائع سے تصدیق کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اسی لیے ہم ایک بین الاقوامی آزادانہ تفتیش چاہتے ہیں۔’انھوں نے کہا کہ ‘موجودہ ماحول میں جہاں ہم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتے دیکھی ہیں جن میں سے اکثر جنگی جرائم کے ضمرے میں آتی ہیں، ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ یہ صرف ایک چھوٹا سا معاملہ بن کر دب جائے۔ ان خلاف ورزیوں کی شدت بہت بڑی ہے۔’اجیت سنگھے نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی ٹیمیں غزہ جانے کے لیے تیار ہیں اگر اسرائیل کی جانب سے ان کو اجازت اور محفوظ راستے کی یقین دہانی مل جائے۔ اسرائیل نے ہسپتالوں میں لاشیں دفنانے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔

