تاثیر،۲۰ مئی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ایران کے 63 سالہ صدر ابراہیم رئیسی گزشتہ 19 مئی کی شام ،ایرانی سرحد پر واقع مشرقی آذربائیجان صوبے کی دور افتادہ پہاڑیوں میں ہوئے ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہوگئے۔عالم اسلام کے ایک سچے ہمدرد کے ساتھ ساتھ فلسطین کے عوام کی حمایت اور اسرائیل کے جارحانہ رویہ کی کھلے عام مذمت کرنے والوں میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا نام سر فہرست تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ حادثے کے دن ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے سے ٹھیک پہلے بھی ابراہیم رئیسی نے فلسطینیوں کے لئے ایران کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا ’ ’فلسطین مسلم دنیا کا اولین مسئلہ ہے۔اسلامی انقلاب کے بعد فلسطینیوں کی حمایت ایران کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے۔‘‘ فلسطین کے مجاہدین گروپ حماس نے ابراہیم رئیسی کی موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کے موقف کی خوب سراہنا کی ہے۔اسلامی مزاج اور انقلابی جذبہ رکھنے والے ایرانی صدر کی شہادت کی خبر کل 20 مئی کی علی الصبح جیسے ہی عام ہوئی بھارت سمیت پوری عالمی برادری شدید صدمے میں ڈوب گئی۔پاکستان، متحدہ عرب امارات، چین، قطر، روس، ترکی، شام، ملائیشیا، اسپین، لبنان اور یورپی یونین نے ایرانی صدر کی موت پر اظہار افسوس کیا ہے۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹرحاد ثے کا شکار تب ہوا جب وہ خراب موسم میں شدید دھند کے دوران ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان کےپہاڑی علاقے جولفا سے گزر رہا تھا۔ ایرانی صدر مشرقی آذربائیجان میں ڈیم کے افتتاح کے بعد تبریز شہر کی طرف لوٹ رہے تھے۔ ہیلی کاپٹر میں کُل 9 افراد سوار تھے ،جن میں وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان، مشرقی آذربائیجان کےگورنر ملک رحمتی اور صوبے میں ایرانی صدر کے نمائندے آیت اللہ محمد علی بھی شامل تھے۔ اطلاع کے مطابق ایرانی صدر کےقافلے میں تین ہیلی کاپٹر تھے۔ ان میں سے دو میں وزرا اور اور دیگر عہدیداران سوار تھے۔ اس میں سے ایک ہیلی کاپٹر کو ملک کے شمال میں دھند کے باعث ’ہارڈ لینڈنگ‘ کرنا پڑی تھی۔ویسے باقی دونوں ہیلی کاپٹر بحفاظت اپنی منزل پر پہنچ گئے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہیلی کاپٹر حادثے کی خبر ملتے ہی، جاں بحق ہونے والے صدر ابراہیم رئیسی کی یاد میں ملک میں پانچ روزہ سوگ کا اعلان کر دیا تھا۔خامنہ ای نے حادثے میں رئیسی اور دیگر عہدیداروں کی موت کے ایک روز بعد ایک سرکاری بیان میں شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا، ’ ’میں پانچ روزہ عوامی سوگ کا اعلان کرتا ہوں اور ایران کے عزیز عوام سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔‘ ‘
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئےپی ایم نریندر مودی نے کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ڈاکٹرابراہیم رئیسی کی موت کی خبر سن کر گہرا دکھ اور صدمہ ہوا ہے۔ بھارت اور ایران کے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی شراکت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ہم اس مشکل وقت میں ایرانی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ایرانی صدر اور ان کے مرحوم رقفاء کے لیے دعاگو ہیں۔روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے بھی ابراہیم رئیسی کو ’روس کا سچا دوست‘ قرار دیا ہے۔ لبنان میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ لبنانی گروہ حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر سے ابراہیم رئیسی کی موت پر تعزیت کی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے ایرانی صدر کی موت کو ایرانی عوام کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ایرانی صدر کی موت پر پاکستان کے پی ایم شہباز شریف نے ایکس پر لکھا ہے، ’’پاکستان کو ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل صدر رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے تاریخی دورے کی میزبانی کرنے کا موقع ملا تھا۔ وہ پاکستان کے اچھے دوست تھے۔پاکستان میں یوم سوگ منا یا جائے گا اور صدر رئیسی اور ان کے ساتھیوں کے احترام اور ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔‘‘
دریں اثنا ایران کے سپریم لیڈر ٰ علی خامنہ ای نے ایرانیوں کو یقین دلایا ہے، ’’اس حادثے سے ملک کی انتظامیہ متاثر نہیں ہو گی۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو پریشان یا مضطرب نہیں ہونا چاہئے۔ ایران کے ریاستی معاملات میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوگا۔‘‘ ایرانی کابینہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد ایرانی حکومت بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام جاری رکھے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے ، ’’ ہم وفادار قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ آیت اللہ رئیسی کے اسی انتھک جذبے کے ساتھ خدمات کا سلسہ جاری رہے گا اور حکومت کا کام بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا رہے گا۔ انہوں نے نائب صدر ڈاکٹر محمد مخبر کو ملک کی ایگزیکٹو برانچ کا عبوری سربراہ مقرر کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر محمد مخبر نے ایران کے قائم مقام صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ڈاکٹر محمد مخبر ایک تجربہ کار ایرانی سیاست دان ہیں۔ وہ 1955 میں ایران کے شہر دزفل میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 2021 سے ایران کے نائب صدر کے طور پر ابراہیم رئیسی کی طرح انہیں بھی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔
صدر ابراہیم رئیسی امت مسلمہ کے اتحاد کے بڑے حامی تھے۔ان کی شہادت نےعالم اسلام کو ایک عظیم رہنما سے محروم کر دیا ہے۔ ایرانی صدر کا شمار فلسطینی اور دوسرے ملکوں کے مظلومین سمیت عالمی سطح پر مسلمانوں کے درد کو شدت سے محسوس کرنے والوں ہوتا تھا۔صدر رئیسی کو علاقائی اور اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کامیاب کوششوں کے لئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ بہت محنتی ،بڑے با علم ، خوش مزاج اور دلچسپ شخصیت کے مالک تھے۔ صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور ان کے ساتھ موجود اہلکاروں کی شہادت پر اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ دلی تعزیت کرتے ہوئے متعدد مملک کے سربراہوں نے ان کے لیے رحمت اور مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی ہے۔ آئیے ، ایران کے قومی سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان کی اس گھڑی میں اظہارِ یکجہتی اور تمام شہیدوں کی مغفرت کے لئے دعا کرنے وا لے بے شمار لوگوںہم بھی میں شامل ہوجائیں !
*************

