تاثیر،۲۵ مئی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ملک کی بیشتر ریاستوں میں ان دنوں شدید گرمی پڑ رہی ہے۔بے پناہ گرمی اور ہیٹ ویو سے نہ صرف میدانی علاقے بلکہ پہاڑی علاقے بھی پریشان ہیں۔ راجستھان میں درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس کو پار کر گیا ہے۔ پنجاب، دہلی، ہریانہ، اتر پردیش اور بہار میں اگلےتین دنوں تک شدید گرمی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ وارننگ کے مطابق رات میں بھی موسم کا مزاج گرم رہے گا۔اس سے تمام انسانوں ، چرندوں پرندوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر فصلوں کا بھی نقصان ہو سکتا ہے۔
راجدھانی دہلی میں اتنی قیامت خیز گرمی پڑ رہی ہے کہ دہلی کے محکمہ موسمیات نے 28 مئی کو گرمی کی لہر کے لیے ریڈ الرٹ جاری کردیاہے۔ اس دوران گرم اور تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق، اس ہفتے درجہ حرارت 46 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔گرمی کا عالم یہ ہے کہ صرف میدانی علاقے ہی نہیں بلکہ دو دنوں سےپہاڑی علاقے بھی جھلسنے لگے ۔ جموں و کشمیر کے عوام کو سنگین حالات کا سامنا ہے۔اس دوران وہاں کادرجہ حرارت 41 ڈگری سیلسیس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے،جس کی وجہ سے جموں ضلع انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شدید گرمی کے پیش نظر گھر سےباہر نکلنے سے گریز کریں۔ادھر شملہ اور منالی میں بھی دن میں گرمی پڑ رہی ہے۔ آئی ایم ڈی نے پیش گوئی کی ہے کہ کل 28 مئی تک موسم ایسا نہیں رہے گا۔پنجاب میں گزشتہ چند روز سے شدید گرمی پڑ رہی ہے۔ لوگوں کو چلچلاتی دھوپ اور ہیٹ ویو کا سامنا ہے۔ جموں ڈویژن، شری نگر،ہماچل پردیش، مشرقی مدھیہ پردیش اور ودربھ کے کچھ علاقوں میں 28 مئی تک گرمی کی لہر جاری رہنے کا امکان ہے۔ راجستھان کے پھلودی میںگزشتہ روز درجہ حرارت 50 تک پہنچ گیا تھا۔اسی مدت کے دوران ریاست گجرات میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہونے کی امید ہے۔محکمہ موسمیات نے دن کے ساتھ ساتھ رات کے اوقات میں بھی گرمی کی لہر کے حوالے سے وارننگ جاری کی ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق اگر رات کا درجہ حرارت مسلسل معمول سے اوپر رہا تو فصلوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔مشرقی اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں 28 مئی تک گرم ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ جبکہ مغربی مدھیہ پردیش میں 27 اور 28 مئی کو گرم ہوائیں چلیں گی۔ راجستھان میں بھی 28 مئی تک شدید گرمی کی لہر آنے کا امکان ہے۔ پنجاب کے کچھ حصوں، ہریانہ، چنڈی گڑھ اور مغربی اتر پردیش میں بھی اس مدت کے دوران ان حالات کا سامنا کرنے کا امکان ہے۔ مغربی مدھیہ پردیش اور دہلی میں بھی 28 مئی تک گرمی کی لہر برقرار رہ سکتی ہے۔ اِدھر راجدھانی پٹنہ سمیت بہار کے کئی اضلاع اس وقت شدید گرمی اور لو کی زد میں ہیں۔گزشتہ دنوںبہار کے 9 اضلاع کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ایک بار پھر 40 ڈگری سے اوپر ریکارڈ کیا گیا۔ بکسر سمیت 9 اضلاع کادرجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر رہا۔ 42.1 ڈگری سیلسیس کے ساتھ ریاست کا گرم ترین ضلع بکسر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے گزشتہ 10 سالوں میں ملک میں ہیٹ ویو سے متاثرہ ریاستوں کی تعداد میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد اس بار 23 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ گرمی کی لہر کے دنوں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہےیہ معلومات بھارتی محکمہ موسمیات، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کی مشترکہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2022 میں گرمی کی ابتدائی لہر کا امکان 30 گنا زیادہ تھا۔ یہ سال پانچواں گرم ترین سال تھا جب کہ 2023 اب تک کا گرم ترین سال رہا ہے۔ 2015 اور 2024 کے درمیان ملک میں شدید گرمی سے متاثرہ ریاستوں کی تعداد 17 سے بڑھ کر 23 ہو گئی ہے۔ ریاستوں کی اس فہرست میں اروناچل پردیش، تمل ناڈو، کیرالہ، ہماچل پردیش، جموں وکشمیر اور اتراکھنڈ کے نام شامل کیے گئے ہیں، جہاں میدانی ریاستوں کی طرح چلچلاتی گرمی اور گرم ہواؤں کی وجہ سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ گرمی کا یہ رجحان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو ثابت کرتا ہے۔ 2014 سے پہلے، تمل ناڈو اور کیرالہ جیسی ساحلی ریاستیں اور ہماچل اور اروناچل پردیش جیسی پہاڑی ریاستیں گرمی کی لہروں سے متاثر نہیں ہوئی تھیں، لیکن گزشتہ چند سالوں میں، خاص طور پر کورونا کی وبا کے بعد، 2021 سے 2023 کے درمیان موسم میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے۔ سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ (سی ایس ای) نے حال ہی میں اطلاع دی ہے کہ2024میں گرمی کی لہر 329 دن رہے گی، جو 2023میں 203 دن تھی۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے ملک میں گرمی میں اضافے کا رجحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے اضلاع اور شہروں پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ایسے میں جب تک متاثرہ علاقوں میں مانسون داخل نہیں ہو جاتا ہے، لوگوں کو چاہئے کہ محکمۂ موسمیات اور ریاستی حکومتوں کے الرٹ کودھیان میں رکھتے ہوئے خود کو ہیٹ ویو سے محفوظ رکھیں۔
***********

