تاثیر۴ جون ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
آخر بلّی تھیلے سے باہر آ ہی گئی ۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سب سے بڑے الیکشن میں عوام نے اعداد و شمار کے کھلاڑیوں کے پا ئوں کےنیچے سے زمین کھینچ لی۔لوک سبھا انتخابات کے حتمی مینڈیٹ نے تمام اگزٹ پولز کے کھلاڑیوں کو دھول چٹا دیا۔جس بی جے پی کو 370 اور این ڈی اے کو ’’400 پار‘‘ سیٹوں پر جیت کا پیشگی مزدہ سنا دیا گیا تھا وہ بی جے پی اپنے دَم پر جادوئی اعداد 272 تو دور 250 تک بھی نہیں پہنچ پائی ہے۔اور رہی ’’اب کی بار 400 پار‘‘ والی بات تو اب اس حوالے سے مین اسٹریم میڈیا کے اینکرہنستے ہوئے صرف انتا بول پا رہے ہیں، ’’چھوڑئے یہ کل کی بات ہے۔‘‘ جبکہ بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ چونکہ پچھلی بار کے مقابلے میں زیادہ سیٹیں حاصل کرنی ہماری چنوتی تھی اس لئے کارکنان کی حوصلہ افزائی کے لئے ایسا نعرہ دینا ہماری سیاسی حکمت عملی تھی۔
دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو این ڈی اے کو 400 سے آگے اور پارٹی کو 370 سے آگے لے جانے کی بی جے پی کا مشن کامیاب نہیں ہوسکا۔ مینڈیٹ نے واضح کردیا ہےکہ بی جے پی کا کام صرف پی ایم مودی کو بھگوان وشنو کا اوتاربنا دینے سے نہیں ہوگا۔ پارٹی کے منتخب ارکان پارلیمنٹ اور ریاستی قیادت کو اچھی کارکردگی بھی دکھانی ہوگی۔ مینڈیٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اتحاد کی اہمیت کا دور 10 سال بعد لوٹ آیا ہے۔ بی جے پی کے پاس اتنی طاقت نہیں رہ گئی ہے کہ وہ بغیر بیساکھی کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے۔جبکہ 11 ایگزٹ پولز میں این ڈی اے کو 340 سے زیادہ سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ تین سروے میں تو این ڈی اے کو 400 سیٹیں دے دی گئی تھیں۔اصلی نتائج میں این ڈی اے تقریباً 100 سیٹوں سے پیچھے ہے۔
واضح ہو کہ 1999 میں 182 سیٹیں جیتنے والی بی جے پی جب 2004 میں 138 سیٹوں پر آ گئی تو اس نے اقتدار کھو دیا تھا۔ اسے 1999 میں واضح اکثریت حاصل نہیں تھی اور اس سے پہلے بھی نہیں۔ پھر بھی یہ تسلیم کیا گیا کہ مینڈیٹ بی جے پی کے ’’فیل گڈ فیکٹر‘‘ کے خلاف تھا۔ اسی وقت، 2004 میں، کانگریس نے بی جے پی سے صرف سات سیٹیں زیادہ یعنی 145 سیٹیں جیت کر یو پی اے کی حکومت بنائی تھی۔ 2009 میں کانگریس نے اسے بڑھا کر 206 کر دیا تھا لیکن، 2014 میں وہ گھٹ کر 44 پر آگئی تھی ۔اس صورتحال کو واضح طور پر یو پی اے کے لیے حکومت مخالف لہر سمجھا گیا تھا۔ تاہم جب ہم اتر پردیش جیسی اہم ترین ریاست کے نتائج پر نظر ڈالتے ہیں تو اس بار تصویر مختلف نظر آتی ہے۔ یہاں بی جے پی پوری طرح سے بلڈوز ہو گئی ہے، جب کہ 2014 میںاس نے 71 اور 2019 میں اس نے 62 سیٹیں جیتی تھیں۔
2024 کے لوک سبھا انتخابات میں میں بی جے پی کو ایک بڑی پارٹی اور این ڈی اے ایک بڑے اتحاد کا درجہ جیسے تیسے حاصل ہو گیا ہے۔اگر حکومت سازی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ در اصل بی جے پی نہیں بلکہ این ڈی اے کی جیت ہے۔ یعنی پورے پانچ سال تک بی جے پی اپنی اتحادی جماعتوں بالخصوص جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی پر انحصار کرے گی۔ ان دونوں پارٹیوں کے بارے میں یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ آیا وہ پورے پانچ سال بی جے پی کے ساتھ رہیں گی یا نہیں۔اس لئے کہ یہ دونوں جماعتیں بھلے ہی این ڈی اے میں ہیں مگر سیاسی نظریے کے مطابق دونوں کانگریس یا دیگر سماجوادی جماعتوں کے زیادہ قریب ہیں۔ ریاست کے لیے خصوصی پیکیج اور مرکز اور ریاست میں اقتدار میں شراکت کے معاملے پرباہمی اختلافات کے زیادہ امکانات ہیں۔ نتیش کمار اور چندرابابو نائیڈو دونوں ماضی میں این ڈی اے سے الگ ہو چکے ہیں۔ اگر اپوزیشن اتحاد کی بات کی جائے یہ واضح فتح کم اور بڑی کامیابی زیادہ ہے۔اسے جتنی سیٹیں حاصل ہوئی ہیں، اس کا سیدھا مطلب ہے کہ اپوزیشن کے طور پر اگلے پانچ سال تک مرکزی سیاست میں اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ مضبوط پوزیشن میں رہے گا۔ علاقائی جماعتیں ملکی سیاست کے لئے اب ناگزیر رہیں گی۔
اگر ہم اعدادوشمار کے اعتبار سے بھلے ہی بی جے پی ابھی ایک بڑی پارٹی ہے لیکن ، اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ 2014 اور 2019 میں مودی کی مقبولیت اور 2024 میں مودی کی مقبولیت کے درمیان مقابلہ تھا۔ بی جے پی نے 2014 کا لوک سبھا الیکشن پہلی بار نریندر مودی کے چہرے پر لڑا تھا۔ پہلی کوشش میں وہ اکیلے 282 سیٹوں پر پہنچ گئی تھی۔ 2019 میں بی جے پی نے 303 سیٹیں جیتیں۔ مگر اس بار بی جے پی 250 تک بھی نہیں پہنچ پائی ہے۔ یعنی یہ 2014 اور 2019 سے اس بار بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ یعنی اس بار کی صورتحال یہ ہے کہ بی جے پی نے 10 سال تک واضح اکثریت کے ساتھ حکومت چلائی ہے، لیکن اب اس کی منمانی نہیں چلے گی۔
یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں کانگریس نے اس سے بھی کم سیٹوں کے ساتھ مخلوط حکومت چلا کر دکھا یا ہے ۔2024 میں بی جے پی کی پوزیشن اس سے بہتر ہے۔ نتائج 1991 کے لوک سبھا انتخابات کی طرح ہیں۔ تب کانگریس نے 232 سیٹیں جیتی تھیں۔ پی وی نرسمہا راؤ وزیر اعظم بنے تھے۔ انہوں نے دیگر جماعتوں کی حمایت سے پورے پانچ سال حکومت چلائی۔ اس بار بی بال جے پی کے ہاتھ میں ہے۔ویسے اس بار کے لوک سبھا انتخابات کے رنگ بی جے پی کے لئے بھلے ہی رہے ہوں، لیکن مینڈیٹ تاریخی ہے۔اس باراگر بی جے پی حکومت بناتی ہے تو یہ پی ایم مودی کے لیے ہیٹ ٹرک ہوگی۔ پی ایم مودی پنڈت جواہر لعل نہرو کے بعد مسلسل تیسری بار ملک کے وزیر اعظم بننے والے دوسرے لیڈر ہوں گے۔اس بار فرق صرف اتنا ہواگا کہ انھیں اپنے اتحادیوں کو لیکر چلنا پڑے گا۔ یعنی اس بار اگر بی جے پی حکومت بناتی ہے تو اس حکومت میںپہلے والی بات نہیں ہوگی۔ حالانکہ اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کے بعض لیڈروں کا بھی دعویٰ ہے کہ حکومت وہی بنائیں گے۔ اب حکومت خواہ جس کی بھی بنے لیکن یہ طے ہے کہ اس بار حکومت کی لگام کم سے کم دو علاقائی پارٹیوں کے ہاتھوں میں ہی ہوگی۔
************************

