ڈی ایم سی ایچ کے مائیکرو بیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں مریضوں میں گمبھیر بیماریوں کا پتہ لگانے کے لیے بلڈ کلچر ٹیسٹ شروع

تاثیر۲۰  جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

دربھنگہ(فضا امام) 20 جولائی:-اب ڈی ایم سی ایچ کے مائیکرو بیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں مریضوں میں گمبھیر بیماریوں کا پتہ لگانے کے لیے بلڈ کلچر ٹیسٹ شروع کر دیا گیا ہے۔ ڈی ایم سی کے پرنسپل ڈاکٹر کے این مشرا، مائکرو بایولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ڈاکٹر کنہیا جھا، بیکٹیریاولوجی سیکشن انچارج ڈاکٹر آر این شرما کی کوششوں سے بلڈ کلچر ٹیسٹ دوبارہ شروع ہوا۔ بلڈ کلچر ٹیسٹ کرانے کے لیے مریض کے 5 سے 10 ملی لیٹر خون کے نمونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ او پی ڈی کے مریضوں کے نمونے مائیکرو بائیولوجی ڈیپارٹمنٹ میں لیے جائیں گے اور وارڈ میں ہی گمبھیر بیماری میں مبتلا مریضوں کے نمونے لیے جائیں گے۔اس موقع پر انفیکشن کنٹرول آفیسر ڈاکٹر احسن حمیدی نے کہا کہ ایسے مریض خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ اگر انفیکشن زیادہ شدید ہو جائے تو یہ سیپسس کا باعث بن سکتا ہے۔ اس صورت میں، اس میں سنگین علامات پیدا ہو سکتی ہیں، ہم صحیح وقت پر بلڈ کلچر ٹیسٹ کے لیے خون جمع کرتے ہیں، ہم حساسیت کی رپورٹ دیتے ہیں یعنی اسے کون سی اینٹی بائیوٹک لینا چاہیے تاکہ اس کے انفیکشن کو کم کیا جا سکے۔ اس کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اگر ہم سیپسس کے مریض کو صحیح وقت پر صحیح دوا دیں تو ہم اسے بچا سکتے ہیں۔اس موقع پر میڈیکل لیب ٹیکنیشن انچارج عقیل احمد، سشیل جھا، روی کمار، پی جی کے طلباء ڈاکٹر نشانت، ڈاکٹر سمیت، ڈاکٹر گھنشیام کمار، گوری شنکر یادو، گھنشیام کمار وغیرہ مائیکرو بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی بیکٹیریالوجی کی ٹیم میں موجود تھے۔