تاثیر۲۲ جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 22 جولائی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) لیڈر اور ایم پی روی شنکر پرساد نے آج ایک پریس کانفرنس میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے اتوار کو دیے گئے اپنے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ممتا نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے مغربی بنگال کے دروازے کھلے رکھیں گی۔ جو پناہ چاہتا ہے اسے خوش آمدید کہیں گے۔ پرساد نے کہا کہ کسی بھی غیر ملکی کو داخلہ دینا ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ آئین کی کتاب اٹھائے گھومنے والے لیڈروں کو یہ معلوم ہونا چاہیے۔ پرساد نے کہا کہ آئین کے مطابق یہ حق حکومت ہند کا ہے ریاستی حکومت کا نہیں۔ ممتا بنرجی کا یہ بیان قابل مذمت اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی ممتا بنرجی ہیں جنہوں نے سی اے اے کے بارے میں کہا تھا کہ ہم تشدد کا شکار کسی ہندو، سکھ، پارسی یا عیسائی پناہ گزین کو مغربی بنگال میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔
ممتا نے ہمیشہ سی اے اے کی مخالفت کی ہے، جب کہ سی اے اے کا ہندوستان کے شہریوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ممتا، راہل گاندھی اور اکھلیش یادو آئین کی بات کرتے رہتے ہیں، کیا آپ کو آئین میں کوئی حق ہے؟ یہ حق حکومت ہند کا ہے، ریاستی حکومت کا نہیں۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ مغربی بنگال کی آبادی تیزی سے بدل رہی ہے۔ آج ریاست کے نو اضلاع مسلم اکثریتی علاقے بن چکے ہیں۔ کولکاتہ کی ڈیموگرافی بھی بدل رہی ہے۔ مغربی بنگال رام کرشن پرمھانسا، سبھاش چندر بوس اور سوامی وویکانند کی سرزمین ہے۔ ممتا بنرجی کو ملک کی سلامتی کی کوئی فکر نہیں ہے۔ کئی بار دہشت گردی کے واقعات کے مرکزی ملزم مغربی بنگال میں پناہ لیتے ہیں۔

