تاثیر۲۴ جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
حمیرپور، 24 جولائی: بدھ کے روز اتر پردیش کے سرکاری افسروں کے ایک پینل نے شہر سمیت علاقے کے نصف درجن مدارس کا دورہ کیا اور جانچ پڑتال کی۔ انکے دورے کا مقصد غیر رجسٹرڈ مدارس کی پڑتال کرنا تھا۔ نئے تعلیمی سیشن کے آغاز پر علاقے میں چلنے والے نصف درجن مدارس کا معائنہ کیا گیا۔ جس میں بچوں کی تعداد میں کمی کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہاں تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے نام دیگر اسکولوں میں بھی درج ہیں۔
اقلیتی بہبود افسر ہمانشو اگروال، بلاک ایجوکیشن آفیسر رام گوپال اور نائب تحصیلدار کے پینل کے ساتھ علاقے کے متعلقہ محکمے کے افسر سعید صدیقی نے مدارس کا معائینہ کیا۔ اس دوران طلبہ کی تعداد، تعلیمی سطح، نصاب اور دیگر انتظامات کی جانچ پڑتال کی گئی جس میں سب سے بڑی بات یہ سامنے آئی کہ مدارس میں مذہبی تعلیم زیادہ ہونے اور این سی ای آر ٹی کا نصاب مدارس میں لاگو ہونے کے بعد بھی متعدد نصابی خامیاں موجود ہیں۔ یہی نہیں بعض مدارس میں رجسٹرڈ طلبہ کے دوسرے مدارس یا اسکولوں میں داخلہ لینے کے معاملے بھی سامنے آئے ہیں۔
یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض مدارس کی پہچان کی بنیاد پر انگلش میڈیم اسکول چلائے جارہے ہیں اور ان کے بورڈ میں کہیں بھی مدارس کے نام درج نہ ہونے کی وجہ سے والدین کو دھوکہ دینے کا کام کیا جارہا ہے۔ لیکن معاملہ تحقیقات سے پہلے ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔
اس سلسلے میں اقلیتی بہبود کے افسر ہمانشو اگروال نے بتایا کہ حکومت سے تسلیم شدہ مدارس کا سروے جو دو سال قبل حکومت کے حکم پر کرایا گیا تھا، صرف ان مدارس کی جانچ کی گئی کہ آیا ان کے بچے کہیں اور پڑھ رہے ہیں یا نہیں۔

