جہد مسلسل ہی زندگی کی علامت اور جنون کی حد تک جذبہ کامیابی کی ضمانت

تاثیر  ۶  اکتوبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

سیڈ کوچنگ سنٹر کی تقسیم اسناد و الوداعیہ تقریب سے ڈاکٹر محمود صدیقی اور دیگر مہمانان کا خطاب

پٹنہ:6اکتوبر:راجدھانی پٹنہ کے اشوک راج پتھ میں خدابخش لائبریری اور اردو اکیڈمی کے سامنے دیپ گنگا کمپلیکس میں واقع مشہور تعلیمی ادارہ ’آکسفیم‘ میں چل رہے سیڈ کوچنگ سنٹر کے زیر اہتمام اتوار کو تقسیم اسناد و الوداعیہ تقریب کاشاندار انعقاد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی حیدرآباد کے سینئر استاذ پروفیسر ڈاکٹر محمود صدیقی نے شرکت کی جبکہ مشہور ومعروف اور معمر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے تقریب کی صدارت کی۔ آکسفیم کے ڈائرکٹر اور سیڈ کوچنگ سنٹرکے نگراں ڈاکٹر یعقوب اشرفی نے تقریب میں نظامت کے فرائض انتہائی خوبصورتی سے اور دلچسپ انداز میں انجام دیئے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں کا والہانہ استقبال کیا۔ سیڈ کوچنگ سنٹر کے طالب علم حافظ و قاری محمد یونس کی تلاوت قرآن مجید اور نعت پاک کے نذرانہ کی ادائیگی کے ساتھ تقریب کا باضابطہ افتتاح ہوا ۔ تقریب میں مہمانان اعزازی کی حیثیت سے مشہور ومعروف مفکر و مدبر اور الحرا پبلک اسکول کے بانی راشد نیر، الحرا پبلک اسکول شاہ گنج پٹنہ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر نذیر احمد، ہم سیکولر اقلیتی سیل کے ریاستی صدر مولاناشکیل ہاشمی، معروف دانشور سلطان ظفر، مشہور سماجی کارکن و دانشور احمد امام، سرگرم و معروف صحافی ڈاکٹر انوارالہدیٰ اور عتیق الرحمن شعبان نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی اور مہمانان اعزازی کے ہاتھوں سیڈ کوچنگ سنٹر کے موجودہ بیچ کے فارغین طلبا وطالبات کے درمیان اسناد تقسیم کی گئی اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے مستقبل میں ہر طرح کی کامیابی کے لیے انہوں دعائوں سے نوازا گیا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر محمود صدیقی کے ہاتھوں آئی جی آئی ایم ایس پٹنہ میں زیر تعلیم مسلم طالبہ اصفیہ عالم کو سیڈکوچنگ سنٹرکی جانب سے 20ہزار روپے نقد کی حوصلہ رقم کا چیک سونپا گیا۔ تقریب میں آکسفیم اور سیڈ کی طالبہ پرتبھا ورما نے انگریزی میں خوبصورت تقریر کی اور اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جبکہ دارالعلوم دیوبند سے فارغ مولاناعارف جمال قاسمی نے انگریزی میں بہترین تقریر پیش کی اور علمائے کرام و حفاظ کرام کے لیے موجودہ دورہ میں انگریزی و جدید عصری علوم کا حصول لازمی قرار دیا اورکہاکہ انگریزی اورجدید عصری علوم کی مدد سے ہمارے علمائے کرام عوام میں اسلام کے سلسلے میں پھیلی غلط فہمیاں دور کرسکتے ہیں۔ طالب علم احمداللہ نے بھی انگریزی میں خوبصورت تقریر کرکے تعلیم کو ایک فردکی نہیں بلکہ پورے سماج کی ایک بڑی ضرورت قرار دیا۔ احمد اللہ نے تعلیم نسواں پر خاص زو ردیا اور ضروری بتایا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ’مانو‘کے پروفیسر ڈاکٹر محمود صدیقی نے کہا کہ موجودہ پُرفتن ، پُرآشوب اور پُرخطر دور میں ہم مسلمان خود کو کیسے زندہ رکھیں اور پھر اپنے زندہ ہونے کا ثبوت کیسے اور کس طرح پیش کریں اور اللہ کے خلیفہ کی حیثیت سے اپنا فریضہ کس طرح انجام دیں یہ ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے جسے ہمیں نہ صرف قبول کرنا پڑے گا بلکہ بہت ہی دوراندیشی اور جرات مندی کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا۔

فارغین طلبا و طالبات میں اسکل انڈیا پروگرام سے زیبا نشاط، رحیمہ فیروز، صابرین پروین، چمن سونیکا، مرشدطر اور غزلہ پروین جبکہ ڈی سی اے صوفیہ شاہین، ساحرہ پروین،صبا پروین،منتشا واحد، سمن کماری،اجالا کماری، شاذیہ، محمد عبدالمطلب اشرفی، زویا، مرشد الخیر، پرتبھا ورما، شکھا کماری، ذکریٰ پروین اور صباپروین شامل ہیں۔ جنہیں اسناد دے کر الوداعیہ دیا گیا۔