!آہ بابا صدیقی

تاثیر  13  اکتوبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے رہنما ، تین بار کے ایم ایل اےاور مہاراشٹر کے سابق وزیر مرحوم بابا ضیاء الدین صدیقی عرف بابا صدیقی کی نماز جنازہ کل شام 7 بجے مغرب کی نماز کے بعد مقبرہ ہائٹس، 15 اے، پالی روڈ، پالی ناکہ، باندرہ (ویسٹ) میں ادا کی گئی اور پھر رات کے تقریباََ 8:30 بجے بڑا قبرستان، مرین لائنز اسٹیشن کے سامنے ا نھیں سپر د خاک کر دیا گیا۔بابا صدیقی کو  گزشتہ سنیچر  کی رات ممبئی کے نرمل نگر تھانہ کے تحت باندرہ ایسٹ علاقے تین جرائم پیشوں نےگولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ افسوسناک حادثہ رات کے  9.15 سے 9.20 بجے کے اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے بیٹے ذیشان کے دفتر سے باہر نکلے تھے۔
پولس ذرائع کے مطابق منہ پر رومال باندھ کر آنے والے شوٹروں نے بابا صدیقی  پر 6 راؤنڈ فائرنگ کی۔ انھیں تین گولیاں لگیں اور وہیں پر وہ زمین پر گر پڑے۔ اسپتال لے جاتے وقت ان کی موت ہوگئی۔ پولیس نے تینوں ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ملزمان نے بابا صدیقی کے قتل کی تاک میں گزشتہ 25-30 دنوں سے لگے ہوئے تھے۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آوروں کو پیشگی ادائیگی کی گئی تھی ۔ انہیں چند روز قبل ہی اسلحہ بھی دیا گیا تھا۔  پولس نے دعویٰ کیا ہے کہ قاتلوں کا تعلق لارنس بشنوئی ایکسپلائنرز گینگ سے ہے۔ گرفتار ملزمان میں دو  نوجوانوں دھرم راج راجیش کشیپ اور شیو کمار عرف شیوا کا تعلق بہرائچ سے ہے جبکہ تیسرا 23 سالہ گرمل بلجیت سنگھ ہریانہ کا بتایا جاتا ہے۔ تینوں بدنام زمانہ گینگسٹر لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ ہیں، جو اس وقت جیل میں ہے۔ اسی گینگ کے شوٹروں نے تقریباََ چھ ماہ قبل یعنی 14 اپریل کو مبینہ طور پر ، ممبئی کے باندرہ میں واقع، بالی ووڈ اسٹار سلمان خان کے گھر ’’گلیکسی اپارٹمنٹ‘‘ پر فائرنگ میں بھی ملوث تھا۔  بابا صدیقی کے ساتھ سلمان خان کے قریبی تعلقات تھے۔
  میڈیا رپورٹس کے مطابق سنیچر کی رات 9.30 بجے کے قریب پیش آنے والے اس واقعہ میں حملہ آوروں نے بابا صدیقی کو نشانہ بنایا اور کئی راؤنڈ فائرنگ کی۔ بابا صدیقی کو سینے میں گولی لگی۔ فائرنگ کے چند گھنٹے بعد ہی بدنام زمانہ بشنوئی گینگ نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اس قتل کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔ اس کے بعد پولس نے پوسٹ کی تحقیقات شروع کر دی۔اب تک جو حقائق سامنے آئے ہیں ، ان کے مطابق  دو شوٹر دھرم راج کشیپ اور شیو کمار گوتم اتر پردیش کے بہرائچ کے رہنے والے ہیں۔ دونوں پڑوسی ہیں اور مبینہ طور پر مجرمانہ دنیا میں شامل ہونے سے پہلے پونے میں مزدور کے طور پر کام کرتے تھے۔ بہرائچ کے ایس پی ورندا شکلا کے مطابق  دونوں کا اپنے آبائی شہر میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، لیکن ذرائع نے انکشاف کیا کہ وہ بشنوئی گینگ میں شامل ہو کر راتوں رات مشہور ہونا چاہتے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ لارنس بشنوئی گینگ ایک عرصے سے ملک بھر میں سنگین جرائم کی وارداتیں کر رہا ہے۔ لارنس بشنوئی گینگ اب داؤد ابراہیم کے راستے پر ہے۔ گینگسٹر لارنس بشنوئی اور اس کے گینگ کے خلاف این آئی اے مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔  این آئی اے نے دہشت گردی کیس میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ اس میں این آئی اے نے کئی انکشافات بھی کیے ہیں۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی چارج شیٹ میں کہا ہے کہ لارنس بشنوئی اور اس کا دہشت گرد سنڈیکیٹ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس گینگ میں 100-200 نہیں بلکہ 700 شوٹر ہیں۔ ان میں سے تقریباً 300 کا تعلق صرف پنجاب سے ہے۔ اپنے گینگ کو فروغ دینے کے لیے، اس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام، یوٹیوب اور فیس بک کی مدد لی۔ اب اگر ہم سال 2020-21 کی بات کریں تو اس گینگ نے جبراََ وصولی کے ذریعے بہت پیسے کمائے اور یہ رقم حوالات کے ذریعے بیرون ممالک بھی بھیج دی۔بشنوئی گینگ کی سلطنت پہلے صرف پنجاب تک محدود تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ اس نے اسے بڑھانا شروع کر دیا۔ اپنے چالاک دماغ کی وجہ سے اس نے اپنے قریبی دوست گولڈی برار سے ہاتھ ملا کر ایک بڑا گینگ بنا لیا۔ اب بشنوئی گینگ نہ صرف پنجاب بلکہ پنجاب، اتر پردیش، ہریانہ، مہاراشٹر، دہلی، راجستھان اور جھارکھنڈ میں بھی پھیل چکا ہے۔ اس کی گرفت بیرونی ممالک تک بھی پہنچنے لگی ہے۔ یہ روس، امریکہ، پرتگال، متحدہ عرب امارات اور آذربائیجان تک پھیل چکا ہے۔ اس گینگ کو چلانے کی بات کی جائے تو اطلاعات کے مطابق گولڈی برار کینیڈا، پنجاب اور دہلی میں اس گینگ کی نگرانی کرتا ہے۔ روہت گودارا راجستھان، مدھیہ پردیش اور امریکہ میں گینگ کی کمانڈ کرتا ہے۔ انمول بشنوئی پرتگال، امریکہ، دہلی۔این سی آر، مہاراشٹر، بہار اور مغربی بنگال کا انچارج ہے ۔ وہیں، کالا جتھیدی ہریانہ اور اتراکھنڈ میں گینگ چلا تا ہے۔ پورا گینگ سابرمتی جیل میں بند لارنس بشنوئی کو براہ راست رپورٹ کرتا ہے۔ اس گینگ میں نوجوانوں کو دوسرے ممالک میں نوکریوں کے بہانے بھرتی کیا جاتا ہے۔
کانگریس کے ساتھ اپنا سیاسی سفر شروع کرنے والے بابا صدیقی نے 2024 میں لوک سبھا انتخابات سے عین قبل کانگریس چھوڑ کر این سی پی (اجیت پوار دھڑے) میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کا شمار مہاراشٹر کے ممتاز لیڈروں میں ہوتا تھا۔ اسمبلی انتخابات سے محض دو ماہ قبل پیش آئے اس واقعہ نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ایک اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق صدیقی کو 15 دن پہلے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے انہیں وائ کیٹیگری کی سیکیورٹی دی گئی تھی۔ بابا صدیقی کے قتل نے امن و امان پر بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ مجرموں نے جس طرح بابا صدیقی کو قریب سے گولی ماری، اس کے بعد تمام اپوزیشن تمام اپوزیشن لیڈروں نے مہاراشٹر میں امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔کئی لیڈروں نے مرحوم کی مغفرت کی دعا کی ہے۔ ’’روزنامہ تاثیر‘‘  فیملی بھی بے پناہ غم کی اس گھڑی میں بابا صدیقی کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے  اور ان کی مغفرت کے لئے دعا گوہے۔
**********