قانونی راستے سے ہی منزل ملے گی

تاثیر  6  دسمبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

کل 6دسمبر تھا۔ 6 دسمبر یعنی بابری مسجد کی شہادت کا دن ۔یعنی اسی دن اتر پردیش کے ایودھیا میں متنازعہ جگہ پر بنی بابری مسجد کو ، ملک کی ہندتو وادی تنظیموں کے اکسا وے پر تقریباََ ڈیڑھ لاکھ مشتعل کار سیوکوں کے ہجوم نے قانونی و انتظامی بندوبست کو انگوٹھا دکھاتے ہوئے مسجد کو شہید کرکے وطن عزیز بھارت کے جمہوری اقدار کی بنیاد میں سیندھ لگا دی تھی۔اس واقعہ کے بعد ملک کے کئی علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے۔ جان و مال کا زبردست نقصان ہوا۔ بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک کے دامن پر بدنما داغ لگانے والے اس واقعے کو 32 سال گزر چکے ہیں، لیکن آج تک امت مسلمہ اس دن کو نہیں بھو ل سکی ہے۔کل دن بھر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اسی طرح کا جملہ گشت کرتا رہا کہ’’ بابری مسجد کی شہادت کو آخری وقت تک نہیں بھلایا جائے گا۔ہم یہ نہیں بھول سکیں گے کہ بابری مسجد کی شہادت کے مجرم آزاد گھوم رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آج نہیں تو کل وہ انصاف ضرور کرے گا۔‘‘
ایودھیا میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا تھا۔اس کے بعد سے جب بھی یہ تاریخ سامنے آتی ہے ، امت مسلمہ ے سامنے دل کو ہلا دینے والی بابری مسجد کی وہ تصویر گھومنے لگتی ہے ، جس کے گنبد پر کارسیوک چڑھے ہوئے ہیں۔اس پر ہتھوڑے اور پھاوڑے چلا رہے ہیں۔پھر ملک کی تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ ایک طویل قانونی عمل کے بعد 9 نومبر، 2019 کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو منظوری دے دی۔ اس وقت کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے رام جنم بھومی بابری مسجد کیس میں متفقہ فیصلہ دیا تھا۔ملک کے مسلمانوں نے اس فیصلے کو دل برداشتہ ہوکر قبول بھی کرلیا۔مسلمانوں کو یقین تھا کہ اس کے بعد ملک میں امن و امان قائم ہو جائے گا۔ ان کے سامنے پلیسز آف ورشپ ایکٹ، 1991تھا۔ انھیں بھروسہ تھا کہ بابری مسجد کے بعد سے کسی دوسرے مذہبی عمارت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی۔ ملک کے تمام مذاہب کے لوگ میل محبت کے ساتھ رہیں گے۔اس وقت مسلمانوں کے زخم پرمرہم بھی رکھا گیا۔ جہاں ایودھیا کی 2.77 ایکڑ کی پوری متنازعہ زمین رام مندر کی تعمیر کے لیے دی گئی تھی وہیں مسجد کی تعمیر کے لیے مسلم فریق کو پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف، ایودھیا میں رام مندر میں پران پرتیشٹھا کو جلد ہی ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دھنی پور میں نئی مسجد کی تعمیر کا کام بھی شروع نہیں ہوا ہے۔دھنی پور گاؤں اتر پردیش میں گورکھپور-ایودھیا-لکھنؤ ہائی وے پر راونہی پولیس اسٹیشن کے آگے سڑک پر شروع ہوتا ہے۔ اس گاؤں میں مسجد کی مجوزہ جگہ ہائی وے سے 200 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ وہاں ایک بڑا سا میدان ہے ۔ وہیں ایک مزار بھی ہے۔ میدان گاؤں والوں کے مویشیوں کے لئےچراگاہ کے کام میں آتا ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد حکومت نے سن 2020 میں سنی سنٹرل وقف بورڈ کو مسجد بنانے کے لیے زمین دی تھی۔ اس کے بعد بورڈ نے انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ٹرسٹ بنایا گیا۔ فاؤنڈیشن کے صدر ظفر فاروقی کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث تعمیراتی کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔ اگرچہ فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، لیکن اس سال ستمبر میں اسے تحلیل کر دیا گیا ۔ آئی آئی سی ایف کے سیکرٹری اطہر حسین کا کہنا ہے کہ فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے جو کمیٹی بنائی گئی تھی وہ اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کر پائی۔ تحلیل شدہ کمیٹی میں حاجی عرفات شیخ بھی شامل تھے۔ انہیں فنڈز اکٹھا کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ حاجی عرفات شیخ کا کہنا ہے کہ مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں سنی سنٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین سے اس مسئلہ پر بات کرنے کے لئے رابطہ کیا جانا چاہئے۔اب اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسجد کی تعمیر کے معاملے میں بھی متعلقین کا کیا رول ہے۔
2024 کے وسط میں ہوئے پارلیمانی انتخابات کے نتائج سے یہ امید بندھی تھی کہ بی جے پی/آر ایس ایس کی مذہبی پولرائزیشن کی سیاست کمزور ہوگی ۔شروع میں ایسا لگا کہ معاش اور بنیادی مسائل کے سوالات جذباتی مسائل سے کہیں زیادہ ہونے لگے ہیں۔ لیکن سال کے آخر تک وہ امید بھی ٹوٹنے لگی ہے۔ یکے با دیگرے نئی نئی مسجدوں کی بنیاد میں مندوروں کی تلاش اور نچلی عدالتوں کے رویے نے ملک کے مسلمانوں میںجو ماحول بنا دیا ہے، آج سے پہلے ایسا نہیں دیکھا گیا تھا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں میں بھی اس صورتحال کو بہتر بنانے کی طاقت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ایسے میں ملک کے مسلمانوں کو سوجھ بوجھ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ جذبات سے ہمارے مسائئل حل نہیں ہو سکتے ہیں۔ قانونی راستے سے ہی ہم منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔