تاثیر 17 اپریل ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضا امام) 17 اپریل- آئین بچاؤ، جمہوریت بچاؤ، ملک بچاؤ مہم دربھنگہ، بہار کے کوآرڈینیٹراور وارڈ کونسلر نفیس الحق رنکو نے وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے نئے وقف قانون کے خلاف آج سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے کہا کہ یہ پٹیشن صرف ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ہمارے تاریخی، مذہبی اور سماجی ورثے کے تحفظ کے لیے جدوجہد کا آغاز ہے۔یہ قانون مستقبل میں ان جائیدادوں کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے کی راہ ہموار کرتا ہے جنہیں لوگوں نے سماجی خدمت اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے عطیہ کیا تھا۔ یہ حکومت پہلے ہی کئی سرکاری جائیدادیں پرائیویٹ کمپنیوں کے ہاتھوں بیچ چکی ہیں اور اب ان کی نظریں وقف املاک پر ہیں۔ یہ واضح طور پر سماجی انصاف اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے اس قانون کی شدید مخالفت کرتے ہوئے ملک کے تمام انصاف پسند شہریوں، سماجی تنظیموں، مذہبی اداروں اور دانشوروں سے اپیل کیا کہ اس جدوجہد میں ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں۔ یہ لڑائی سڑکوں سے پارلیمنٹ اور عدالت تک لڑی جائے گی۔ یہ صرف دربھنگہ یا بہار نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی ثقافت، سماج اور عوامی مفاد کی لڑائی ہے وفترمیمی قانون نافذ ہونے کے بعد ملک بھر کے مسلمانوں کے اندر غم اور غصے کی لہر ہے اور ہر جگہ جگہ پر احتجاج ہو رہا ہے دربھنگہ میں بھی 12اپریل کو ایک بہت بڑا احتجاج ہوا جس میں ہزاروں ہزار مسلمان شامل ہوئے اور ضلع ادھیکاری کو ایک میمورنڈم پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ کیندر سرکار جلد سے جلد اس کالے قانون کو واپس لے۔حکومت کی اس پالیسی کی مخالفت کرنے کے لیے ہم سب کو متحد ہونا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ عطیہ کی گئی جائیدادیں ان مقاصد کے لیے محفوظ رہیں جن کے لیے وہ وقف کیے گئے تھے یہ تمام جانکاری اج اس مہم کے ذمہ دار ممبر ریاض خان قادری نے پریس میڈیا کو بتایا.

