تاثیر 19 اپریل ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
“وقف ہمارا، حق ہمارا، وقف ترمیمی ایکٹ ہمیں منظور نہیں” مقررین نے قانون کی واپسی کا پرزور مطالبہ کی۔
ارریہ ( مشتاق احمد صدیقی ) گزشتہ دنوں بوچی عیدگاہ میں وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف ایک روزہ احتجاجی پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں ارریہ اور اطراف کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے علمائے کرام، دانشوران، اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔ مقررین نے اس ایکٹ کو ملت اسلامیہ کی مذہبی آزادی، تشخص، اور ادارہ جاتی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں تنقید کی اور اس کی واپسی کا پرزور مطالبہ کیا۔ پروگرام کی صدارت مفتی عتیق اللہ رحمانی (قاضی شریعت، امارت شرعیہ ارریہ) نے فرمائی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ وقف مسلمانوں کا ایک شرعی، دینی اور معاشی ادارہ ہے، جسے حکومت کے ماتحت کرنا نہ صرف شریعت اسلامی سے تصادم ہے بلکہ یہ آئینی آزادی کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک کو غیر شرعی طریقے سے اپنے اختیار میں لینا مسلمانوں کی صدیوں پرانی امانت کو برباد کرنے کے مترادف ہے۔ پروگرام کی نگرانی مکھیا محمد علی حسن نے فرمائی، جبکہ سرپرستی ڈاکٹر زبیر عالم (بوچی) نے کی۔ احتجاجی پروگرام کی قیادت معروف سماجی کارکن قاری محمد جسیم الدین حسامی نے کی اور کنوینر کی ذمہ داری قاری ابو طالب احمد (ناظم مدرسہ عرفانیہ، سنگاریڈی، حیدرآباد) نے ادا کی۔ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد مسرور عالم مظاہری (ناظم، مدرسہ محمدیہ تجوید القرآن ناگارم، حیدرآباد) نے کہا کہ اس قانون کے بعد وقف املاک کی خرید و فروخت اور استعمال کا اختیار بھی حکومتی اداروں کو منتقل ہو سکتا ہے، جس سے وقف کا اصل مقصد فوت ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں وقف املاک پر قبضے اور بدعنوانی کے واقعات حکومتوں کے کردار پر سوالیہ نشان رہے ہیں، اور اب اسی کو قانونی شکل دی جا رہی ہے۔ مولانا نیاز احمد قاسمی (سماجی کارکن، جھمٹا) نے کہا کہ وقف املاک صرف زمینیں یا عمارتیں نہیں، بلکہ ملت اسلامیہ کی دینی، تعلیمی اور رفاہی ترقی کا وسیلہ ہیں۔ وقف ترمیمی ایکٹ کے ذریعہ حکومت کو یہ اختیار دینا کہ وہ وقف بورڈ کو براہ راست کنٹرول کرے، دراصل مسلمانوں کے اندرونی نظام میں مداخلت ہے۔ ڈاکٹر تبریز حسن (جے این یو) نے کہا کہ اس ترمیمی قانون سے اقلیتوں کو حاصل شدہ خودمختاری مجروح ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس سے وقف جائداد کو غیر متعلقہ اغراض کے لیے استعمال کرنے کا دروازہ کھل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دستور ہند کے مطابق اقلیتوں کو اپنے مذہبی اور تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا حق ہے، جس پر یہ قانون براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ محمد راشد انور اور فیصل جاوید یاسین (ارریہ) نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے مذہبی اداروں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔ خاموشی، مستقبل کی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ پروگرام کا اختتام قاری انوار عالم کی رقت انگیز دعا پر ہوا، جس میں ملک و ملت کی سلامتی، وقف کے تحفظ، اور اتحاد و بیداری کی دعائیں کی گئیں۔ اجلاس کے دوران پورا ماحول نعروں سے گونجتا رہا، بالخصوص “وقف ہمارا، حق ہمارا – وقف ایکٹ منظور نہیں” جیسے نعرے ہر زبان پر تھے۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں بوچی پنچایت، بٹورباری پنچایت اور رامپور پنچایت کے معزز افراد اور نوجوانوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بالخصوص حافظ فیروز احمد، حافظ جعفر، حافظ حیدر علی، حافظ صادق، قاری ثابت عظیم وغیرہ نے نہایت منظم انداز میں تمام انتظامات کو انجام دیا۔ یہ احتجاجی پروگرام نہ صرف ایک وقتی ردعمل تھا بلکہ یہ ملت کے شعور کی بیداری کا عملی مظاہرہ بھی تھا۔ مقررین نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ملت اسلامیہ ہند اپنے مذہبی تشخص، ادارہ جاتی خودمختاری اور دینی وقار کے تحفظ کے لیے ہر قانونی و جمہوری اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

