تاثیر 16 جون ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
احمد آباد( گجرات) میں ہونے والا حالیہ فضائی حادثہ صرف ایک معمولی سانحہ نہیں بلکہ انسانی تکلیف، نظام کی ناکامی اور اجتماعی بے حسی کا آئینہ ہے۔ یہ حادثہ صرف درجنوں جانوں کا ضیاع نہیں، بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے خوابوں، امیدوں اور رشتوں کے دفن ہونے کی ایک بھیانک داستان ہے۔ اس سانحے نے جہاں پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے، وہیں متاثرہ خاندانوں کے لئے وقت گویا ایک ناقابلِ برداشت اذیت بن کر ٹھہر سا گیا ہے۔
سِول اسپتال احمد آباد کا منظر اس وقت کسی ماتم کدے سے کم نہیں ہے۔ 1200 بستروں والا یہ اسپتال آج ان بے بس لوگوں کی آہوں، سسکیوں اور سوالوں سے گونج رہا ہے جو صرف اپنے پیاروں کی باقیات کے دیدار کے لیے دن رات انتظار کر رہے ہیں۔ ان افراد کے لیے یہ انتظار محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ان کے دلوں میں پلتی آخری امید کا سہارا ہے۔ ہر لاش، ہر بیگ، ہر نشان میں ان کےلئے ایک دنیا چھپی ہوئی ہے۔ کسی کا بیٹا، کسی کی ماں، کسی کا شوہر یا بیوی۔حادثے کے بعد جو سب سے بڑا المیہ سامنے آیا ہے، وہ ہے لاشوں کی شناخت کا عمل۔ انسانی جسم کے وہ باقیات جو جل کر ناقابلِ شناخت ہو چکے ہیں، اب صرف ڈی این اے کی پیچیدہ اور وقت طلب جانچ کے سہارے پہچانے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں متاثرہ خاندانوں کی بے بسی اور درد کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ایک ہی باڈی بیگ میں دو مختلف سروں کا ملنا نہ صرف تکنیکی چیلنج بن جاتا ہے بلکہ انسانی وقار اور جذبات کے لئے ایک بہت بڑا سوال بھی پیدا کرتا ہے۔
یہ سوال آج ہر کسی کی زبان پر ہے کہ کیا ہماری ہنگامی ردعمل کی تیاری اس حد تک ناقص ہے کہ ہم کسی المناک واقعے کے بعد بھی اپنے شہریوں کی آخری رسومات تک کو عزت سے ادا نہیں کر پاتے؟متاثرہ افراد جیسے جمشید علی، جو اپنے پورے خاندان کی لاشیں لینے اسپتال پہنچے، ان کا غم صرف ان کے چہرے پر نہیں بلکہ ان کے الفاظ میں چیخ رہا ہے۔ وہ بار بار افسران سے درخواست کرتے رہے کہ ان کے عزیزوں کے جتنے بھی اعضا ہیں، انہیں سپرد کر دیے جائیں تاکہ وہ آخری رسومات ادا کر سکیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کئی افراد کو مکمل جسم تو دور، شناخت شدہ باقیات بھی نہیں مل پا رہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی ہمدردی اور سرکاری عمل کے درمیان ایک وسیع خلیج صاف نظر آتی ہے۔ افسران یہ تو کہتے ہیں کہ ’’ہماری مجبوری ہے‘‘، ’’ہم کوئی چُوک نہیں کر سکتے‘‘، لیکن ان جملوں میں وہ دلاسہ اور نرمی ناپید ہے ،جس کی ایسے نازک وقت میں اشد ضرورت ہوتی ہے۔ جذبات صرف متاثرین کے نہیں ہوتے، بلکہ ان کا احترام پوری مشینری کی ذمہ داری ہے۔انتظامیہ کی سست روی، غیرواضح بیانات اور لاشوں کی حوالگی میں تاخیر عوامی اشتعال کو بڑھا رہی ہے۔ متاثرہ افراد جب کہتے ہیں کہ ’’ہمیں انتظامات نہیں، صرف ہمارے عزیزوں کی لاشیں دے دو‘‘یا’’ ہمیںمُعاوضہ نہیں چاہیے، صرف طیارے ٹھیک کرا دو تاکہ آئندہ کسی کا خاندان نہ اجڑے‘‘ تو یہ آواز محض شکوہ نہیں بلکہ ایک جلی ہوئی امید کی آخری پکار ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ متاثرین کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ حکومت وقت صرف بحرانوں کے بعد پریس کانفرنس کرنے اور مالی امداد کا اعلان کرنے تک محدود ہو گئی ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ حادثہ کیوں ہوا؟ کیا اس کی روک تھام ممکن تھی؟ کیا ہمارے پاس کوئی عملی اور فوری ردعمل کا نظام موجود ہے؟
یہ سانحہ ہم سب کے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔ کیا ہماری ایوی ایشن انڈسٹری محفوظ ہے؟ کیا ہم نے پہلے کے حادثوں سے کچھ سیکھا ہے؟ یا ہر بار ہم ’’تحقیقات جاری ہیں‘‘ کہہ کر ان واقعات کو بھلا دیتے ہیں؟آج ضرورت ہے ایک جامع، انسانی بنیادوں پر استوار ہنگامی منصوبے کی۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے، جو صرف ڈی این اے کی جانچ نہ کرے بلکہ دلوں پر مرہم بھی رکھ سکے۔ ایک ایسا نظام، جو متاثرین کو انصاف، عزت اور ہمدردی دے سکے۔ میڈیا کو چاہئے کہ وہ اپنےکیمروں سے صرف زار و قطار بہتے ہوئے آنسو ہی نہیں دکھائے بلکہ متاثرین کی آہوں کو پالیسی سازوں تک پہنچانے کا فرض بھی نبھائے۔ سماجی تنظیمیں، مقامی رضاکار اور کمیونٹیز ان گھڑیوں میں جو کام کر رہے ہیں، وہ یقیناََ قابلِ تعریف ہیں۔ ابھی ضرورت ہےشفافیت، سرعت، ہمدردی اور بہتری کی ،تاکہ آئندہ کوئی باپ اپنے جگر گوشے کی لاش کے لئے دربدر نہ بھٹکتاپھرے، تاکہ ایک بوڑھی ماں کو اپنے بیٹے کے جسم کا آخری نشان تک میسر ہوجائے اور تاکہ انسانیت کا بھرم، کم از کم موت کے بعد بھی تو، برقرار رہے۔

