تاثیر 5 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
آج یوم عاشورہ ہے، یعنی اسلامی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے، جس کی سنگینی، روحانی عظمت اور اخلاقی بلندی قیامت تک باقی رہے گی۔ محرم الحرام کی یہ دسویں تاریخ ، ابتدا سے ہی مقدس رہی ہے۔ مختلف انبیاء کے ادوار میں بھی یہ دن تاریخی اہمیت رکھتا رہا؛ روایات میں آتا ہے کہ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر آ کر ٹھہری تھی۔اسی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ ہجرت کے بعد یہودیوں کو روزہ رکھتے پایا تو اس دن کے روزے کو مستحب قرار دیا، جو اسلامی روایت میں یومِ عاشورہ کو ایک مقدس دن کی حیثیت دیتا ہے۔
لیکن یوم عاشورہ کو جو لازوال عظمت ملی ہے، وہ میدانِ کربلا میں پیش آنے والے اس واقعے سے وابستہ ہے ،جس نے تاریخِ انسانیت کو خونِ صداقت سے رنگین کر دیا ہے۔ 10 محرم ، 61 ہجری کو امام حسینؓ اور ان کے خانوادے نے ظلم و جبر کے خلاف ایک بے مثال قربانی پیش کی۔ یزید کی باطل حکومت کے خلاف حق کی آواز بلند کرنا اور دینِ اسلام کی اصل روح کو بچانے کے لئے سر ہتھیلی پر رکھ کر نکلنا، امام عالی مقام کی وہ جرات تھی، جو قیامت تک کے حریت پسندوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ امام حسینؓ نے نہ صرف خلافت کے نام پر قائم ملوکیت کو مسترد کیا بلکہ ظلم کے سامنے خاموشی کو بھی گناہ قرار دیا۔
کربلا کا سانحہ محض ایک خونی معرکہ نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور روحانی تحریک ہے۔ امام حسینؓ کا پیغام یہ نہیں تھا کہ وہ حکومت کے حصول کے لئے نکلے تھے، بلکہ وہ دین کے احیاء، عدل کے قیام اور ظلم کے انکار کے لئے میدان میں اترے تھے۔ ان کے ساتھ 72 جانثاروں کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا کہ فتح ہمیشہ تلوار کی نہیں ہوتی، بلکہ اصولوں کی ہوتی ہے۔ کربلا نے ہمیں یہ سکھایا کہ کسی بھی نظام میں اگر انصاف ختم ہو جائے، اور طاقت کو حق پر فوقیت دی جانے لگے تو وہاں حسینؓ کھڑے ہوتے ہیں اور یزید کا انکار کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ امام حسینؓ نے ہر قدم پر تقویٰ، اخلاص اور رضائے الٰہی کو ترجیح دی۔ ان کا عمل قرآن کے اُس پیغام کی عملی تفسیر تھا، جو ہمیں بسم اللہ سے سکھایا جاتا ہے،یعنی ہر کام کا آغاز اللہ کے نام سے، اور ہر فیصلے میں اللہ کی رضا مقدم۔ یوم عاشورہ اسی شعور کی بیداری کا دن ہے کہ ہم بھی زندگی کے ہر موڑ پر باطل کے بجائے حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔ جس طرح امامؓ نے “لا الہ الا اللہ” کے عَلم کو سربلند رکھنے کے لئے اپنی جان نچھاور کی، اسی طرح ہمیں بھی اپنے کردار، نیت اور اجتماعی فیصلوں میں اللہ کی طرف رجوع اور سنتِ نبویؐ کی پیروی کو اختیار کرنا چاہئے۔
یوم عاشورہ کا تقاضا صرف غم، آنسو اور یاد منانے کا نہیں، بلکہ یہ دن خود احتسابی، معاشرتی بیداری، اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی تحریک ہے۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا بھی ایک جرم ہے۔ آج کے مسلم معاشروں کو اگر کربلا کا پیغام سمجھ آ جائے تو وہ ہر طرح کی ناانصافی، فرقہ واریت اور ظالمانہ نظام کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں۔ یوم عاشورہ ہمیں صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں سناتا بلکہ موجودہ حالات میں جینے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔
آج کے دن بالخصوص نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ امام حسینؓ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے کا عہد کرے۔اپنے اندر علم، کردار اور جرأت کی وہ روشنی پیدا کرے جو کربلا کے سورج سے پھوٹتی ہے۔ آج ہمیں اپنے معاشرے میں ظلم، بدعنوانی، نفرت اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے حسینی فکر کو زندہ رکھنا ہوگا۔ اگر ہم نے یوم عاشورہ کو صرف رسمی یاد بنادیا تو ہم اُس پیغام کے اصل تقاضوں سے دور ہو جائیں گے، جس کے لئے امام حسینؓ نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ یہی وقت ہے کہ ہم اپنے دلوں، اپنی تحریروں، اپنی تقریروں اور اپنے عمل سے کربلا کے چراغ کو روشن رکھیں، تاکہ انسانیت ایک بار پھر عدل، محبت اور سچائی کی روشنی میں سانس لے سکے۔
*******************

