!عوام کو بس صحیح وقت کا انتظارہے

تاثیر 9 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

اسمبلی انتخابات سے قبل، بہار میں جاری ، ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی مہم کے خلاف اپوزیشن کے ذریعہ کل بدھ کو ’’بہار بند‘‘ بلایا گیا تھا۔ اس ’بہار بند‘  کو بے اثر نہیں کہا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور آر جے ڈی کے تیجسوی یادو نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ بہار میں بر سر اقتدار بی جے پی اورجے ڈی یو اتحاد پر عوام کے حق رائے دہی کو سلب کرنے کی ’سازش‘ کا الزام عائد کیا ۔ اس کے بر عکس الیکشن کمیشن کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے،بر سراقتدار جماعتیںاس عمل کو ووٹر لسٹ کی درستگی کے لئے ناگزیر قرار دے رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کی مانیں تو یہ تنازع نہ صرف بہار کی سیاست بلکہ بھارت کے جمہوری اداروں کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ راہل گاندھی نے کل پٹنہ میں ’بہار بند‘ کے موقع پر مہاراشٹرا کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے اس الزام کا اعادہ کیا کہ وہاں لوک سبھا انتخابات کے مقابلے اسمبلی انتخابات میں ایک کروڑ نئے ووٹرز شامل ہوکئے گئے ، جن کا رجحان این ڈی اے کی طرف تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہاں بڑے پیمانے پر غریب طبقات کے ووٹ کاٹے گئے ۔ اور باربار مانگے جانے کے باوجود الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ یا ویڈیو گرافی سے متعلق کوئی وضاحت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا وہ ان کا ’’مہاراشٹڑ ماڈل ‘‘ تھا اور بہار میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان کا ’’بہار ماڈل ‘‘ ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا ’’بہارماڈل‘‘ کے ذریعہ بہار کے دلت، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے ووٹنگ حقوق کو نشانہ بنا نے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس موقع سے تیجسوی یادو نے بھی الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بار بار نوٹیفکیشن میں تبدیلی اور سوالات کے جواب نہ دینا کمیشن کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر بھی تنقید کی، الزام لگایا کہ وہ آزادانہ فیصلے نہیں لے پا رہے۔
دوسری جانب، بی جے پی اورجے ڈی یو اتحاد کا موقف ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی جعلی ووٹنگ کو روکنے اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی اسے آئینی دفعات کے تحت جائز قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ عمل تمام سیاسی جماعتوں کے مشورے سے کیا جا رہا ہے۔ حکومت سے جڑے دوسرے لوگوں کا بھی یہی کہنا ہے۔ان کا الزام ہے کہ اپوزیشن سیاسی فائدے کے لئے اسےمتنازع بنا رہی ہے۔ تاہم، الیکشن کمیشن کی جانب سے اپوزیشن کے مخصوص سوالات پر خاموشی نے شکوک و شبہات کو ہوا دی ہے۔ مثال کے طور پر، ووٹر لسٹ کے اضافے یا حذف شدہ ناموں کی تفصیلات کی شفافیت پر واضح جوابات کا فقدان تنقید کو تقویت دیتا  ہوا نظر آ رہاہے۔بلاک اور بی ایل او لیول پر جس انداز سے اور جس افرا تفری کے ماحول میں ووٹر لسٹ کی نظر ثانی سے متعلق کا کام ہو رہا ہے، اس میں بھی بڑے پیمانے پر عدم شفافیت کی شکایتیں موصول ہو رہی ہیں۔
ظاہر ہے یہ تنازع بہار کے سماجی و سیاسی ڈھانچے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بہار کی 18 فیصد مسلم آبادی اور دلت و پسماندہ طبقات کے ووٹ اپوزیشن کے لئے اہم رہے ہیں۔ اگر اپوزیشن کے الزامات درست ہیں تو یہ عمل انتخابی نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ محض سیاسی الزامات ہیں تو ’بہار بند‘  جیسے اقدامات عوام میں الجھن پیدا کرنے والے ہیں۔ حالیہ برسوں میں الیکشن کمیشن نے کئی بار ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل کو کامیابی سے مکمل کیا ہے، لیکن ماضی کے تنازعات، جیسے کہ مہاراشٹرا اور ہریانہ کے انتخابات سے متعلق سوالات، اس کی غیرجانبداری پر بحث کو ہوا دیتے ہیں اور بہار میں ابھی وہی ہو رہا ہے۔
ایسے میں الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت کو یقینی بنائے اور اپوزیشن کے جائز سوالات کا جواب دے۔ بہارکے عوام، جو اپنے جمہوری حقوق کے لئے ہمیشہ حساس رہے ہیں، اس معاملے پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تنازع ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔اور سوال ہے کیا بھارت کے جمہوری ادارے عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے اہل ہیں ؟  اس سوال کا جواب اس بار بہار کے عوام کو ہی دینا ہے۔ عوام کا فیصلہ ہی صحیح فیصلہ ہوگا۔عوام کو بس صحیح وقت کا انتظار ہے۔