تاثیر 10 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ڈھاکہ، 10 جولائی بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ اور تین ملزمان کے خلاف بین الاقوامی کرائمز ٹریبونل-1 میں آج باضابطہ مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی۔ ان چاروں پر گزشتہ سال جولائی میں عوامی بغاوت کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام ہے۔ اس کیس میں گرفتار سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس چودھری عبداللہ المامون نے ٹریبونل کے ساتھ سرکاری گواہ بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ڈھاکہ ٹریبیون اخبار کے مطابق جسٹس محمد غلام مرتضیٰ مجمدار کی سربراہی میں تین رکنی بین الاقوامی جرائم ٹریبونل-1 نے آج کی سماعت کے دوران معزول وزیراعظم شیخ حسینہ سمیت چار ملزمان کے خلاف باضابطہ الزامات عائد کرنے کا حکم دیا۔ اس دوران سابق انسپکٹر جنرل پولیس مامون نے ٹریبونل کو بتایا کہ وہ رضاکارانہ طور پر سرکاری گواہ بننا چاہتے ہیں۔ دیگر دو ملزمان میں سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال اور چوہدری عبداللہ المامون شامل ہیں۔
اس معاملے میں اب تک صرف سابق اعلیٰ پولیس افسر چودھری مامون کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ٹربیونل نے شیخ حسینہ اور اسد الزماں خان کو مفرور قرار دیا ہے۔ استغاثہ نے کہا ہے کہ چودھری عبداللہ المامون نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور وہ سرکاری گواہ بن چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شیخ حسینہ اور تین دیگر کے خلاف باقاعدہ ٹرائل شروع ہو گیا ہے۔

