تل ابیب میں ہزاروں افراد کا حماس کے ساتھ قیدیوں کی ڈیل کے حق میں مظاہرہ

تاثیر 13 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب،13جولائی:تل ابیب میں ہزاروں مظاہرین نے قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا، جب کہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق دوحہ میں حماس کے ساتھ مذاکرات ابھی تک جاری ہیں اور تعطل کا شکار نہیں ہوئے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ اور خبر رساں اداروں کے مطابق ہفتے کے روز ہزاروں اسرائیلی شہری تل ابیب کے مظاہروں کے مقام پر جمع ہوئے، جہاں انہوں نے بینرز اور کتنبے اٹھا رکھے تھے جن پر ’’قیدیوں کی واپسی کے بغیر کوئی کامیابی ممکن نہیں‘‘ کے نعرے درج تھے۔اسرائیلی چینل 13 کے مطابق مظاہروں میں شریک افراد نے دوپہر اور شام کے اوقات میں مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
اس وقت تل ابیب کا ماننا ہے کہ غزہ میں تقریباً 50 اسرائیلی قیدی موجود ہیں، جن میں سے 20 زندہ ہیں۔ہفتے کے روز تل ابیب میں مظاہرے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو مکمل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ہفتے کے روز تل ابیب میں مظاہرے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو مکمل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور جاری ہے، جس میں قطر، مصر اور امریکہ بہ طور ثالث شریک ہیں۔ مذاکرات کا مقصد جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر ایک وسیع معاہدے تک پہنچنا ہے۔گذشتہ تقریباً 20 ماہ کے دوران اسرائیل اور حماس کے درمیان کئی بار مذاکرات ہو چکے ہیں، جن کی میزبانی قطر، مصر اور امریکہ نے کی۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں دو مرتبہ جنگ بندی کا اعلان بھی ہوا، پہلی بار نومبر 2023ء میں اور دوسری بار جنوری 2025ء میں ہوا۔ ان معاہدوں کے دوران محدود تعداد میں قیدیوں کا تبادلہ بھی عمل میں آیا۔