تاثیر 15 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
یمن میں سزائے موت کا سامنا کر رہی بھارتی نرس نمیشا پریا کے سلسلے میں تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی ، اطمینان بخش خبر موصول ہوئی ہے۔آج (16جولائی) ہی انھیں پھانسی دی جانی تھی۔اس سزا کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ظاہر سی بات ہےیہ فیصلہ نمیشا پریا کے اہل خانہ اور ان کے حامیوں کے لئے ایک عارضی راحت کا باعث ہے۔ تاہم، یہ معاملہ نہ صرف نمیشا کی زندگی بچانے کی جدوجہد کو عیاں کرتا ہے بلکہ جنگ زدہ یمن کے حالات، شرعی قانون اور بین الاقوامی سفارت کاری کی مشکلات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ نمیشا کی کہانی ایک ایسی عورت کی کہا نی ہے، جسے اپنے خاندان کی کفالت کے خوابوں کی تعبیر کی تلاش، اسے بھارت سے یمن لے گئی ۔لیکن اسی جد و جہد کے دوران پیش آئے ایک المناک واقعے نے اسے سزائے موت تک پہنچا دیا۔
نمیشا پریا، جو کیرالہ کے پالکڈ سے تعلق رکھتی ہیں۔وہ 2008 میں، 19 سال کی عمر میں یمن کے دارالحکومت صنعا گئی تھیں، جہاں انہوں نے ایک سرکاری ہسپتال میں نرس کی حیثیت سے کام شروع کیا تھا۔ ان کے ساتھ ان کی والدہ بھی یمن گئی تھیں۔وہ وہاں گھریلو کام کاج کرکے گزر بسر کرتی تھیں۔ نمیشا اپنی ملازمت سے خاندان کی مشکلات کو کم کرنے کی جد و جہد کر رہی تھیں۔ 2012 میں ان کے شوہر ٹومی تھامس بھی یمن گئے، لیکن ملازمت نہ ملنے پر 2014 میں اپنی بیٹی کے ساتھ کیرالہ واپس آ گئے۔ ا سی درمیان نمیشا نے صنعا میں اپنا ایک نرسنگ ہوم کھولنے کا فیصلہ کیا۔جانکار بتاتے ہیں کہ اس فیصلے کو زمین پر اتارنا آسان نہیں تھا۔ چنانچہ یمن کے قانون کے مطابق ، اپنے شوہر ٹومی تھامس کے مشورے سے ، ایک مقامی تاجر اور شوہر کے مُنھ بولے دوست طلال عبدو مہدی کو نہ صرف اپنا کاروباری شراکت داربنایا بلکہ از راہ مصلحت اسکے ساتھ نکاح کا فرضی کاغذ بھی بنانا پڑا۔نرسنگ ہوم کھلا اور اچھی طرح سے چلنے بھی لگا۔پھر چند ہی مہینوں کے بعد سے ہی مہدی نےنمیشا پریا کی بے سہارگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، پورے نرسنگ ہوم کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کرنے لگا۔ بات یہیں سے بگڑنے لگی ۔پھر 2017 میں ، ایک دن مہدی کا کٹا ہوا جسم پانی کے ایک ٹینک سے بر آمد ہوا۔ نمیشا پر اس کے قتل کا الزام عائد ہوا۔ ان پر الزام لگا کہ انہوں نے مہدی کو نشہ آور دوا کی زیادہ مقدار دی اور پھر اس کے جسم کے ٹکڑے کیے۔ نمیشا نے ان الزامات کی تردید کی، ان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ مہدی نے انھیں جسمانی اذیت دی، ان کا پاسپورٹ ضبط کیا اور بندوق سے مارڈالنے کی دھمکی دی۔ نمیشا نے مبینہ طور پر اپنا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے مہدی کو بے ہوشی کی دوا دی تھی، لیکن اس کی مقدار حادثاتی طور پر زیادہ ہو گئی، جس سے مہدی کی موت واقع ہو گئی۔
یمن کی مقامی عدالت نے 2020 میں نمیشا کو سزائے موت سنائی، جسے 2023 میں سپریم جوڈیشل کونسل نے برقرار رکھا۔ جنوری، 2024 میں حوثی رہنما مہدی المشاط نے اس سزا کی توثیق کی۔ یمن کے شرعی قانون کے تحت، مقتول کے خاندان سے معافی اور خون بہا (دیت) کے ذریعے سزا معاف ہو سکتی ہے۔ اس امید پر 2020 میں نمیشا پریا کے اہل خانہ اور دیگر اہل خیر حضرات کےذریعہ ’’ سیو نمیشا پریا انٹرنیشنل ایکشن کونسل‘‘ نام کی ایک غیر سرکاری تنظیم قائم کی گئی تھی۔ اور اس تنظیم نےخون بہا (دیت) کے طور پر مہدی کے اہل خانہ کو 10 لاکھ ڈالر کی پیشکش کی ہے۔اس کے علاوہ کیرالہ کے ایک تاجر نے بھی اس کے لئے 1.12 لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ نمیشا کی والدہ پریما کماری 2024 سے یمن میں ہیں، جو مقتول کے خاندان سے معافی مانگنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم، یمن کے سیاسی انتشار اور حوثی کنٹرول کی وجہ سے بات مثبت طریقے سےآگے نہیں بڑھ پا رہی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، بھارتی وزارت خارجہ نے یمن کے جیل انتظامیہ اور پراسیکیوشن سے رابطوں کے ذریعے پھانسی کو عارضی طور پر رُکوا تو دیا ہے، لیکن مقتول کے خاندان سے ابھی تک معافی کی کوئی تصدیق نہیں ملی ہے۔تاہم ، بھارتی وزارت خارجہ نے ہر ممکن تعاون کا وعدہ کیا ہے۔دیگر سطح سے بھی مہدی کے خاندان سے بات چیت کےلئے کوششیں جاری ہیں۔نمیشا کو پھانسی دینے کی اگلی کوئی تاریخ بھی ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ عنقریب ہی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
نمیشا پریا کے معاملے کو انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے دیکھنے پر یہ ایک ایسی کہانی معلوم ہوتی ہے، جو بنیادی انسانی حقوق، انصاف کے نظام، اور بین الاقوامی تعلقات کے سوالات کو اٹھاتی ہے۔ یمن کا شرعی قانون خون بہا کے عوض معافی کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس عمل میں مقتول کے خاندان کی رضامندی ضروری ہے۔ کیا یہ معافی ممکن ہو پائے گی، یا بھارتی حکومت کی سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی؟ اس سوال کا جواب کیا ہوگا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن نمیشا کی غربت، اس کی ہمت اور اس کے ساتھ ہوئے فریب کے نقطۂ نظر سے،جی چاہتا ہے کہ اس معاملے کو ہمدردی کے زاویے سے دیکھا جائے۔ایسے میں ایک بھارتی خاتون کو غیر ملکی عدالتی نظام کے تحت سزا پانا بادی النظر میں ایک غیر انسانی عمل معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسے، کم سے کم خون بہا (دیت) کے ذریعے بھی معافی مل جاتی ہے تو یہ انسانی جذبے کی ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

