تاثیر 16 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
جموں, 16 جولائی:جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر کانگریس کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے، بلکہ صرف وہی حق مانگ رہے ہیں جس کا وعدہ ہم سے بارہا کیا گیا ہے۔
یہ بات انہوں نے بدھ کے روز جموں میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی مرکزی حکومت کو ہدایت دے چکی ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو جلد از جلد بحال کیا جائے، اور اب جلد از جلد کا وقت کب کا گزر چکا ہے۔
عمر عبداللہ کا بیان اپوزیشن لیڈران ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے اس مشترکہ خط کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں مانسون اجلاس کے دوران جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ واپس دینے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ ہم طویل عرصے سے منتظر تھے کہ اپوزیشن جموں و کشمیر کے عوام کی آواز کو دہلی اور پارلیمنٹ میں مؤثر انداز میں اٹھائے گی۔ میں کھڑگے جی اور راہل گاندھی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ریاستی درجہ کے مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھایا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم صرف اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر، سپریم کورٹ کے فیصلے اور متعدد عوامی تقاریب میں حکومت کی جانب سے ہمیں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مناسب وقت پر ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی۔

