تاثیر 16 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ہگلی، 16 جولائی:مغربی بنگال کے کئی اضلاع میں مسلسل بارش نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ روپنارائن اور منڈیشوری ندیوں میں طغیانی کی وجہ سے آرام باغ، گھٹل، داس پور، چندرکونہ سمیت کئی علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کئی مقامات پر دریاؤں کے پانی کی سطح خطرے کے نشان سے تجاوز کر گئی ہے۔
آرام باغ کے پانشیولی بازار میں روپنارائن اور منڈیشوری ندیوں کے سنگم پر دونوں ندیوں میں طغیانی ہے جس کی وجہ سے بازار اور آس پاس کے کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ اب تک چار گرام پنچایتوں کے 50 سے زیادہ گاؤں پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ کھیتوں میں کھڑی فصلیں زیر آب آ گئی ہیں اور پکی سڑکوں پر تین سے چار فٹ پانی جمع ہو گیا ہے۔ کئی گھروں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔
مقامی لوگ دیہات کے اندر سے کشتیوں کے ذریعے مین روڈ تک پہنچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں صرف امدادی سامان نہیں چاہیے، انھیں پکی سڑکیں چاہیے تاکہ انھیں بار بار اس سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایک رہائشی نے بتایا کہ اگر کسی کے گھر میں کوئی بیمار پڑ جائے تو اسے باہر نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تمام سامان، خوراک حتیٰ کہ گیس سلنڈر بھی کشتی سے لانا پڑتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مغربی میدنی پور ضلع کا گھاٹل میونسپلٹی علاقہ اور آس پاس کی گرام پنچایتیں گزشتہ آٹھ دنوں سے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ داس پور کے علاقے میں سیلابی پانی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ صبح سے آسمان ابر آلود ہے۔موسلادھار بارش اور وقفے وقفے سے ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

