تاثیر 18 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
سنبھل، 18 جولائی: ضلع مجسٹریٹ نے اترپردیش کے سنبھل ضلع میں گزشتہ سال 24 نومبر کو متنازعہ شاہی جامع مسجد سروے کے دوران ہونے والے ہنگامے کی مجسٹریٹ جانچ شروع کی تھی۔ جس میں ڈپٹی کلکٹر دیپک چودھری کو نامزد کیا گیا۔ تقریباً سات ماہ کی تفتیش کے دوران انہوں نے افسران و ملازمین کے بیانات قلمبند کیے تاہم تفتیش مکمل نہ ہوسکی۔ اس تفتیش کے دوران اب ان کا تبادلہ ضلع سے باہر کردیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پردیپ ورما نے مجسٹریٹ انکوائری سٹی مجسٹریٹ سدھیر کمار کو سونپ دی ہے۔ وہ یہ تحقیقات مکمل کریں گے۔ سنبھل ضلع میں متنازعہ جامع مسجد اور ہری ہر ناتھ مندر میں 24 نومبر 2024 کو سروے کے دوران تین مقامات پر تشدد اور ہنگامہ آرائی ہوئی۔ پہلا ہنگامہ متنازعہ جامع مسجد کے قریب ہوا، جہاں پانچ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دوسرا ہنگامہ نخاسہ تیراہا میں ہوا جہاں پولیس پر پتھراؤ کیا گیا اور فائرنگ کی گئی۔ اس کے بعد تیسرا تشدد ہندو پورہ کھیڑا میں ہوا۔ یہاں پولیس اہلکاروں پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔ 29 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ فسادات کے معاملے میں درج 12 مقدمات میں 96 ملزمان کو جیل بھیجا گیا ہے۔ اس میں جامع مسجد کمیٹی کے صدر ظفر علی ایڈووکیٹ بھی شامل ہیں۔ اس ہنگامے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے بنائی۔ ان ویڈیوز کی بنیاد پر ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

