پارلیمنٹ کا مانسون سیشن آج سے

تاثیر 20 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

پارلیمنٹ کا مانسون سیشن آج  (21 جولائی) سے شروع ہو رہا ہے۔یہ مانسون سیشن نہ صرف قانون سازی بلکہ قومی سلامتی، سفارتی حکمت عملی اور سیاسی استحکام کے اہم سوالات کا بھی محور بننے جا رہا ہے۔ یہ سیشن 21 اگست تک جاری رہے گا۔اس میں 21 اجلاس ہوں گے۔بھارتی جمہوریت کے لئے یہ سیشن ایک اہم امتحان ثابت ہونے والا ہے۔ اس دوران آٹھ نئے بلوں کی پیشکش متوقع ہے۔ان میں قومی کھیلوں کی گورننس بل، اینٹی ڈوپنگ ترمیمی بل، منی پور گڈز اینڈ سروسز ٹیکس بل، جیو ہیریٹیج سائٹس بل اور انکم ٹیکس بل 2025 شامل ہیں۔ تاہم، یہ سیشن صرف قانون سازی تک محدود نہیں رہے گا۔ حساس موضوعات جیسے کہ بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی، آپریشن سندور، پہلگام دہشت گرد حملہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اسے ہنگامہ خیز بنا سکتے ہیں۔
حکومت اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ منی پور میں صدر راج کو بڑھانے کا بل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شمال مشرقی ریاست میں سیاسی استحکام ابھی ایک خواب ہی ہے۔ قومی کھیلوں کی گورننس بل اور انکم ٹیکس بل جیسے اقدامات معاشی و انتظامی اصلاحات کی طرف ایک مثبت قدم ہیں، لیکن اپوزیشن کے لئے یہ سیشن ایک موقع ہے کہ وہ حکومت کی انتخابی تیاریوں پر سوالات اٹھائے۔ بہار اسمبلی انتخابات سے عین قبل ، نہایت جلدی بازی میں چلائی جا رہی ووٹر لسٹ کی نظرثانی مہم، اس سیشن میں ایک متنازعہ موضوع بن سکتی ہے۔ اپوزیشن اسے الیکشن کمیشن اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔اس سے ملک کے سیاسی رنگ کے مزید گہرا نے کے آثار ہیں۔
آپریشن سندور اور پہلگام حملے پر بحث بھی سیشن کا اہم حصہ ہوگی۔ اپوزیشن یہ سوال اٹھائے گی کہ سیز فائر کا اعلان امریکی صدر نے کیوں کیا ، اور اس سے بھارت کی سفارتی ساکھ پر کیا اثر پڑا؟ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ سیشن بھارتی فوج کی کامیابیوں سے لے کر سفارتی ناکامیوں تک، سب پر گہری چھان بین کا موقع فراہم کرے گا۔اس سیشن میں ہونے والی بحث نہ صرف قومی سلامتی کے سوالات کو اجاگر کرے گی بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی سمت کو بھی واضح کر سکتی ہے۔ظاہر ہے، ملک کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر بھارت کی خودمختاری اور سفارتی وقار کو کس طرح تحفظ دیا جا رہا ہے ؟
اپوزیشن کے پاس مسائل کی ایک طویل فہرست ہے، لیکن اسے ہنگامہ آرائی کے بجائے نظم و ضبط کے ساتھ اپنی بات پیش کرنی ہوگی۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی طاقت اس کا اتحاد ہو سکتی ہے، لیکن اسے اپنی صفوں میں یکجہتی برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ اگر اپوزیشن تعمیری انداز میں مسائل اٹھائے اور متبادل حل پیش کرے، تو اس کا اثر زیادہ گہرا ہوگا۔ بھارتی پارلیمنٹ کی روایت رہی ہے کہ حساس موضوعات پر بحث کے دوران نظم و ضبط کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
یک اہم نکتہ جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کا باعث بن سکتا ہے، وہ دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج یشونت ورما اور الہ آباد ہائی کورٹ کے جج شیکھر یادو کو ہٹانے کی تجویز ہے۔ اس اقدام سے عدالتی شفافیت اور جوابدہی کو تقویت مل سکتی ہے، جو عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
یہ سیشن 21 اگست کو اختتام پذیر ہوگا۔ سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں ہیں کہ حکومت آخری دنوں میں کوئی بڑا اعلان کر سکتی ہے۔ پچھلے بجٹ سیشن کی کم پیداواری صلاحیت کو دیکھتے ہوئے، یہ سیشن پارلیمانی جمہوریت کے لئے ایک موقع ہے کہ فریقین تعمیری رویہ اپنائیں۔ اگر سرکار اور اپوزیشن مل کر قومی مفادات کے تحفظ کے لئے کام کریں، تو یہ سیشن نہ صرف قانون سازی بلکہ قومی مفادات کے تحفظ  اوربھارت کی جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے میں سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔