تاثیر 22 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن،22جولائی:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر بار بار حملے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں سے ایران کے جوہری مقامات تباہ ہو چکے ہیں۔ٹرمپ کی یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی چینل فوکس نیوز سے گفتگو میں تسلیم کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام فی الحال رک چکا ہے، کیونکہ وہ اسرائیلی اور امریکی بم باری کے نتیجے میں “شدید نقصان” کا شکار ہوا ہے۔ تاہم عراقچی نے واضح کیا کہ ایران یورینیم کی افزودگی سے دست بردار نہیں ہو گا اور وہ فی الحال امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کو تیار نہیں۔
رمپ نے آج منگل کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر لکھا “وزیر خارجہ عباس عراقچی ایرانی جوہری تنصیبات کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ ‘نقصان شدید ہے، سب کچھ تباہ ہو چکا ہے’… یہی میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، اور اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ ایسا کریں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام کو “شدید نقصان” پہنچا ہے، اور ان میڈیا اداروں کو معافی مانگنی چاہیے جنھوں نے امریکی حملوں کی شدت پر سوالات اٹھائے۔گزشتہ ماہ21 جون کو، امریکی فضائیہ نے B-2 بم بار طیاروں کے ذریعے اصفہان، نطنز اور فردو میں واقع ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ ان میں فردو کا وہ مقام بھی شامل تھا جو پہاڑ کے اندر، نصف میل گہرائی میں واقع ہے۔

