سیاسی گلیاروں میںچہ میگوئیاں

تاثیر 22 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت کے سیاسی منظرنامے میں 21 جولائی، 2025 کو اس وقت ہلچل مچ گئی، جب نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ سرکاری طور پر صحت کے مسائل کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا گیا ہے، لیکن سیاسی گلیاروں میں زیر گردش افواہوں اور واقعات کے تسلسل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ استعفیٰ محض صحت کے مسائل تک محدود نہیں ہے۔ دھنکھڑ کا یہ اقدام نہ صرف غیر متوقع تھا بلکہ اس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، جن کا تعلق پارلیمانی سیاست، عدلیہ کے کردار، اور حکومت کے دباؤ سے ہے۔
جگدیپ دھنکھڑ، جو راجستھان سے تعلق رکھتے ہیں اور سپریم کورٹ میں وکالت کا تجربہ رکھتے ہیں، نے اپنے استعفیٰ میں صحت کو ترجیح دینے اور طبی مشورے کی تعمیل کا حوالہ دیا ہے۔ رواں سال مارچ میں انہیں دل سے متعلق مسائل کی وجہ سے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(ایمس) میں داخل کیا گیا تھا، جہاں ان کی اینجیوپلاسٹی ہوئی تھی۔ تاہم، اس کے بعد وہ پارلیمنٹ سمیت عوامی تقریبات میں سرگرم اور توانا دکھائی دیتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں، ان کا اچانک استعفیٰ سیاسی حلقوں کے لئے نہایت حیران کن ہے۔
رپورٹس کے مطابق، دھنکھڑ کے استعفیٰ سے قبل پارلیمنٹ میں ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نریندر مودی اور کئی سینئر وزراء شریک تھے۔بتایا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں نائب صدر کے عہدے سے متعلق اہم امور زیر بحث آئے۔ اسی دوران، راجیہ سبھا میں دھنکھڑ نے چیئرپرسن کی حیثیت سے جسٹس یشونت ورما کے خلاف مواخذے کے نوٹس کا اعلان کیا، جس پر 50 سے زائد اراکین پارلیمنٹ نے دستخط کیے تھے۔ یہ نوٹس نئی دہلی میں جج کی سرکاری رہائش گاہ سے بھاری مقدار میں نقدی برآمد ہونے کے الزامات سے متعلق تھا۔ اس اقدام نے سیاسی تناؤ کو مزید بڑھا دیا۔
دھنکھڑ کے استعفیٰ سے قبل ان کی اپوزیشن لیڈروں، بالخصوص کانگریس کے ملیکارجن کھڑگے اور عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال سے ملاقاتیں بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔ ان ملاقاتوں نے یہ اشارہ دیا کہ دھنکھڑ کے حکومتی ایجنڈے سے اختلافات بڑھ رہے تھے۔ خاص طور پر، وہ نیشنل جوڈیشل اپائنٹمنٹس کمیشن(این جے اے سی)  جیسے ادارے کی بحالی کے لئے سرگرم تھے، جو عدلیہ میں شفافیت لانے کا ایک ذریعہ تھا ،لیکن وہ حکومتی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
اُدھراپوزیشن نے اس استعفیٰ کو ’’غیر متوقع‘‘ اور ’’حیران کن‘‘ قرار دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش  کا کہنا ہے کہ  وہ شام 5 بجے تک دھنکھڑ کے ساتھ تھے اور انہیں اس فیصلے کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ استعفیٰ کے پس پردہ دیگر وجوہات ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب، سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ دھنکھڑ کے استعفیٰ کے بعد نائب صدر کے عہدے کے لیے نتیش کمار اور یا یوگی آدتیہ ناتھ جیسے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، یہ محض قیاسات ہیں اور ان کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔اِدھردھنکھڑ کے استعفیٰ نے پارلیمانی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کے دور میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے ساتھ کئی بار تناؤ کے لمحات دیکھے گئے، حتیٰ کہ اپوزیشن نے ان کے خلاف مواخذے کی تجویز بھی پیش کی تھی، جو آزاد بھارت میں کسی نائب صدر کے خلاف پہلا واقعہ تھا۔ تاہم، اسے راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرپرسن ہری ونش نے مسترد کر دیا تھا۔
اس سارے معاملے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دھنکھڑ کا استعفیٰ محض صحت کے مسائل کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی دباؤ، عدلیہ سے متعلق تنازعات، اور حکومت کے ایجنڈے سے اختلافات کا مجموعہ ہے۔ صدر دروپدی مرمو نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے، اور وزیراعظم مودی نے ان کے اچھے مستقبل کی خواہش ظاہر کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ استعفیٰ بھارتی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہے؟ آنے والے دنوں میں اس کے اثرات واضح ہوں گے، لیکن فی الحال یہ سیاسی گلیاروں میں ایک بڑی بحث کا موضوع بنا ہوا ہےاور چہ میگوئیاں جاری ہیں۔
***********************