نوجوان نسل اور ہماری ذمہ داریاں

تاثیر 23 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

گزشتہ دو دہائیوں میں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو اس قدر تیزی سے بدلا ہےکہ اس کے اثرات ہر شعبہ ہائے زندگی پر عیاں ہیں، لیکن اگر کوئی طبقہ اس ڈیجیٹل انقلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے تو وہ ہے ہماری نوجوان نسل۔ سوشل میڈیا، جو ایک طرف علم، آگہی، اور عالمی رابطوں کاپُل ہے،  وہیں دوسری طرف ذہنی خلفشار، وقت کے ضیاع، اور اخلاقی گراوٹ کا سبب بھی بن رہا ہے۔ یہ ایک ایسی دو دھاری تلوار ہے ،جس کا درست استعمال ترقی کی راہ کھول سکتا ہے، جبکہ بے احتیاطی تباہی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے: ’’اور جو لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی بہک جاؤ‘‘ (سورۃ النساء، آیت 27)۔ سوشل میڈیا پر مصنوعی زندگی کی چکاچوند، شہرت کی ہوس، اور ہر لمحہ دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کی دوڑ اسی خواہشات کی پیروی کی ایک شکل ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ایکس اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کو عالمی دنیا سے جوڑا ہے، لیکن یہ ’’آواز‘‘ کب غیر ضروری شور میں بدل جاتی ہے، یہ سمجھنا ایک چیلنج ہے۔ لائکس، شیئرز اور ویوز کی لت نے ڈوپامین ایڈکشن کو جنم دیا ہے، جو وقتی خوشی تو فراہم کرتی ہے لیکن فکری گہرائی اور تنقیدی سوچ کو ماند کر رہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بہترین انسان وہ ہے، جو دوسروں کے لیے نفع بخش ہو‘‘ (صحیح بخاری)۔ لیکن سوشل میڈیا پر سطحی مواد کی دوڑ نے کئی نوجوانوں کو ذہنی اضطراب، ڈپریشن، اور احساسِ کمتری کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ کتاب سے دوری، مطالعے کی عادت کا فقدان، اور تنقیدی سوچ کی کمی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کا پھیلاؤ بھی ایک بڑا خطرہ ہے، جو نوجوانوں کو گمراہ کر سکتا ہے۔
تاہم، سوشل میڈیا صرف ایک تاریک تصویر ہی پیش نہیں کرتا۔ اس نے نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم عطا کیا ہے، جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں، سماجی مہمات، اور کاروباری مواقع کو فروغ دے سکتے ہیں۔ کئی نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے روزگار کے نئے در کھولے، سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی، اور علم و ادب کے فروغ میں حصہ لیا۔ اردو، فارسی، فلسفہ، اور اسلامیات جیسے موضوعات پر مباحث پیش کرنے والے نوجوان اساتذہ اور دانشور اب سوشل میڈیا پر مقبول ہو رہے ہیں، جو ایک خوش آئند علامت ہے۔ قرآن کریم ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘(سورۃ المائدہ، آیت 2)۔ سوشل میڈیا اس نیکی کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے اگر اسے حکمت اور شعور کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ مثال کے طور پر، کئی نوجوان اب اسے تعلیمی مواد، دینی رہنمائی، اور سماجی بہبود کے لئے استعمال کر رہے ہیں، جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس طاقتور ذریعے کو ترقی کا پُل بنایا جائے یا تنہائی کا جال؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ والدین، اساتذہ، اور سماجی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ کھل کر بات کریں، ان کی ڈیجیٹل دنیا کو سمجھیں، اور ان کی رہنمائی کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’ہر شخص اپنی رعایا کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘ (صحیح بخاری)۔ اسکولوں اور کالجوں میں’’ڈیجیٹل لٹریسی‘‘ اور’’اخلاقی تربیت‘‘ کو نصاب کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا کے استعمال میں توازن سکھانا بھی ضروری ہے تاکہ نوجوان وقت کے ضیاع سے بچ سکیں اور اسے تعمیری مقاصد کے لئے استعمال کریں۔
آخر میں، یہ ہمارے معاشرے اور خود نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو تخلیقی صلاحیتوں اور سماجی بہتری کا زینہ بنائیں، نہ کہ خود کو تنہائی اور سطحی سوچ کے جال میں الجھنے دیں۔ ڈیجیٹل لٹریسی، وقت کی تنظیم اور اخلاقی حدود کا شعور ہی اسے ترقی کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ آئیے، ہم اپنے نوجوانوں کو یہ سکھائیں کہ وہ اس ڈیجیٹل دور میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، شعور و حکمت سے کام لیں، اور سوشل میڈیا کو اپنی ترقی اور معاشرے کی بہتری کا پل بنائیں، نہ کہ تنہائی کا وہ جال، جس میں الجھنے کے بعد پھر اس سے باہر آنا تقریباََ ناممکن ہو جاتا ہے۔