تاثیر 25 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
اسمبلی انتخابات 2025 سے پہلےبہار کی سیاست کافی گرم ہو چکی ہے۔الیکشن کمیشن کا ایس آئی آراور کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی)کی رپورٹ نے نتیش کمار کی قیادت والی حکومت کے لئے پریشانی کھڑی کر دی ہے۔ایس آئی آر ، جو بظاہر ووٹر لسٹ کی درستگی کا عمل ہے، اپوزیشن اسے شہریت کی خفیہ جانچ کا حربہ قرار دے رہی ہے۔ دوسری طرف،سی اے جی کی رپورٹ نے مالی نظم و نسق کی خامیوں کو سامنے لاکر سیاسی ہلچل کو مزید تیز کر دیا ہے۔ یہ دونوں مسائل جمہوری اداروں کی شفافیت اور ساکھ کو آزمانے کے ساتھ ساتھ نتیش حکومت کے ترقیاتی دعوؤں کو بھی متوازن تناظر میں دیکھنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
سی اے جی کی 2023-24 کی رپورٹ نے انکشاف کیا کہ بہار حکومت 70,877 کروڑ روپے کے یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ وقت پر جمع نہ کر سکی، جس سے مالی بدعنوانی اور فنڈز کے غلط استعمال کے خدشات نے جنم لیا ہے۔ سب سے زیادہ تاخیرپنچایتی راج (28,154.10 کروڑ) ، تعلیم (12,623.67 کروڑ)، شہری ترقی (11,065.50 کروڑ) ، دیہی ترقی (7,800.48 کروڑ) اور زراعت (2,107.63 کروڑ)کے شعبوں میں ہوئی۔ خاص طور پر، 14,452.38 کروڑ کی ر قم 2016-17 تک کی ہے، جب تیجسوی یادو نائب وزیر اعلیٰ تھے، جو اپوزیشن کے لئے ایک سیاسی ہتھیار بن گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 3.26 لاکھ کروڑ کے بجٹ میں سے صرف 2.60 لاکھ کروڑ خرچ ہوئے، اور 65,512.05 کروڑ کی بچت میں سے محض 23,875.55 کروڑ واپس جمع ہوئے۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار حکومت کےنظم و نسق پر سوالات اٹھاتے ہیں، لیکن یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ نتیش کمار کی قیادت میں بہار نے سڑکوں، بجلی، اور تعلیم جیسے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ دیہی انفراسٹرکچر کی بہتری، خواتین کی تعلیم، اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے پروگراموں نے بہار کی معاشی و سماجی ترقی کو تقویت دی ہے۔
اِدھرایس آئی آر کے تحت، الیکشن کمیشن نے 24 جولائی تک 99 فیصد ووٹروں کے فارمز جمع کر لیے تھے۔، لیکن 15 لاکھ فارمز ابھی موصول نہیں ہوئے۔ 21.6 لاکھ ووٹروں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 28 لاکھ نے اپنا مستقل پتہ بدل لیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ عمل ووٹر لسٹ کو شفاف بنانے کے لیے ناگزیر ہے، اور یکم اگست سے یکم ستمبر تک شکایات درج کی جا سکتی ہیں، جبکہ حتمی فہرست 30 ستمبر کو شائع ہوگی۔ اپوزیشن، خاص طور پر کانگریس اور آر جے ڈی، اسے ووٹنگ حقوق کو دبانے کی کوشش قرار دیتی ہے۔ تیجسوی یادو نے انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی۔لیکن وہ اس معاملے میں سنجیدہ نہیں نظر آرہے ہیں۔ جبکہ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔ پٹنہ سے دہلی تک، اپوزیشن نے “SIR: Stealing Indian Rights”اور “Subverting Indian Republic‘‘ کے نعرے لگائے۔ رابڑی دیوی نے تیجسوی کی حفاظت کے حوالے سے تشویش ظاہر کیہے۔ بی جے پی اور جے ڈی (یو)چپپر سازش کا الزام لگایا ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ایس آئی آر سے پسماندہ طبقات، دلت، اور غریب ووٹروں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ دستاویزات کی سخت شرائط دیہی علاقوں میں مسائل پیدا کر رہی ہیں۔
تاہم، نتیش حکومت کا موقف ہے کہ ایس آئی آر ووٹر لسٹ کی درستگی کے لئے ایک ضروری قدم ہے۔ بہار جیسے گنجان آباد صوبے میں، جہاں نقل مکانی اور جعلی ووٹنگ کے مسائل عام ہیں، ووٹر لسٹ کی تصدیق ایک پیچیدہ لیکن لازمی عمل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے جعلی ووٹنگ اور غیر قانونی رجسٹریشن کو روکا جا سکتا ہے، جو شفاف انتخابات کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے عوام کے مفاد میں کام کیا ہے، اور اپوزیشن محض سیاسی فائدے کے لئے ہنگامہ آرائی کر رہی ہے۔
دونوں فریقوں کے دلائل اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں۔ اپوزیشن کا خدشہ کہ ایس آئی آر سے پسماندہ طبقات کے ووٹنگ حقوق متاثر ہو سکتے ہیں، جائز ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں دستاویزات کی دستیابی کے مسائل کے تناظر میں۔ دوسری طرف، الیکشن کمیشن اور حکومت کا موقف ہے کہ شفاف انتخابات کے لئے یہ عمل ناگزیر ہے ۔ سی اے جی کی رپورٹ نے بھلے ہی مالی نظم و نسق کی کمزوریوں کو اجاگر کیا، لیکن نتیش حکومت کے ترقیاتی کاموں نے بہار کو پسماندگی سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 28 جولائی کو سپریم کورٹ کی سماعت اور 30 ستمبر کو حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت اس تنازع کی سمت طے کر سکتی ہے۔ یہ صورتحال بہار کے سیاسی مستقبل اور جمہوری اداروں کی ساکھ کے لئے ایک بڑا امتحان ہے۔

