تاثیر 29 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ذریعہ چلائے جا رہے ایس آئی آر پروگرام نے سیاسی و سماجی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ سپریم کورٹ کا تازہ فیصلہ، جس میں مسوداتی ووٹر لسٹ کے اجرا پر پابندی سے انکار کرتے ہوئے 29 جولائی 2025 کو حتمی سماعت کا اعلان کیا گیا ہے، اس تنازع کو بر قرار رکھا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف بہار کی انتخابی سیاست کو متاثر کرے گا بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی اس کے اثرات کی گونج سنائی دے گی۔
ایس آئی آر پروگرام، جس کا مقصد ووٹر لسٹ سے جعلی، منتقل شدہ، یا مردہ ووٹروں کے نام ہٹانا ہے، بہار میں پہلے ہی سیاسی تنازع کا باعث بن چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اس عمل کے تحت 52 لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام ہٹائے جا سکتے ہیں، جن میں 18 لاکھ مردہ ووٹرز، 26 لاکھ منتقل شدہ ووٹرز، اور 7 لاکھ ڈپلیکیٹ ووٹرز شامل ہیں۔ اس سے خاص طور پر سیمانچل کے مسلم، بنگالی نژاد، او ر شیر شاہ آبادی برادریوں میں بے چینی پائی جاتی ہے، جہاں ووٹروں کے نام بغیر پیشگی اطلاع کے ہٹائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں، جیسے کہ کانگریس اور دیگر، اسے انتخابات سے ان کے قبل ووٹ بینک کو کمزور کرنے کی سازش قرار دے رہی ہیں۔ دوسری جانب، بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں اسے ووٹر لسٹ کی شفافیت کے لئے ضروری اقدام کہہ رہی ہیں۔ اس تنازع نے بہار میں سیاسی پولرائزیشن کو مزید گہرا کرنے کا امکان بڑھا دیا ہے، جو پہلے ہی ذات پات اور مذہبی خطوط پر منقسم ہے۔
ایس آئی آر کے نفاذ نے سماجی سطح پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کی غیر شفاف عملداری نے خاص طور پر پسماندہ اور اقلیتی برادریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔ ایکس پر پوسٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اسے’’نرم این آر سی ‘‘ سمجھ رہے ہیں، جو شہریت کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ عمل غیر منصفانہ طریقے سے جاری رہتا ہے، تو اس سے نہ صرف ووٹروں کا انتخابی عمل پر اعتماد کم ہوگا بلکہ ایک مستقل طور پر محروم طبقے کے وجود کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ کا فیصلہ کہ آدھار اور ووٹر شناخت کارڈ کو دستاویزی ثبوت کے طور پر قبول کیا جائے،اس عمل کو کچھ حد تک شفاف بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اس معاملے میں ایک محتاط اور متوازن نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ مسوداتی ووٹر لسٹ پر پابندی سے انکار کرتے ہوئے عدالت نے ای سی آئی کو عمل جاری رکھنے کی اجازت دی ہے، لیکن حتمی سماعت کے ذریعے اس کی قانونی جانچ پڑتال کا عندیہ بھی دیا ہے۔ عدالت کا یہ موقف کہ آدھار اور ووٹر شناخت کارڈ کو ترجیح دی جائے، ووٹر لسٹ کی صداقت کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔ تاہم، یہ فیصلہ اپوزیشن کے لئے ایک دھچکہ ہے، جو فوری طور پر عمل کو روکنے کے حق میں تھی۔ آئندہ سماعت میں عدالت کا فیصلہ اس عمل کی قانونی حیثیت اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار کو واضح کرے گا، جو نہ صرف بہار بلکہ دیگر ریاستوں کے لئے بھی ایک نمونہ بن سکتا ہے۔
اگر ایس آئی آر کا ماڈل بہار میں کامیاب ہوتا ہے، تو ای سی آئی اسے دیگر ریاستوں میں بھی نافذ کر سکتا ہے، جیسا کہ کچھ ذرائع نے اشارہ کیا ہے۔ اس سے قومی سطح پر انتخابی سیاست کے تانے بانے بدل سکتے ہیں، خاص طور پر ان ریاستوں میں، جہاں ووٹر لسٹ کی درستگی ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ تاہم، اس عمل کی شفافیت اور منصفانہ نفاذ کو یقینی بنانا ای سی آئی اور حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اگر یہ عمل سیاسی مقاصد کے لئے غلط استعمال ہوتا ہے، تو اس سے نہ صرف انتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا بلکہ سماجی ہم آہنگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ ایس آئی آر کے تناظر میں ایک اہم موڑ ہے۔ یہ فیصلہ جہاں ای سی آئی کو ووٹر لسٹ کی اصلاحات کے لئے حوصلہ دیتا ہے، وہیں اس کی حتمی سماعت سے عمل کی شفافیت اور جواز پر حتمی رائے قائم ہوگی۔ بہار اور دیگر ریاستوں کی سیاست پر اس کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ عمل کس حد تک منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رہتا ہے۔ سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹیز، اور عدلیہ کو مل کر اسے یقینی بنانا ہوگا کہ ووٹ کا حق، جو جمہوریت کی بنیاد ہے، کسی بھی شہری سے نہ چھینا جائے۔
**********************

