نفرت کا ایک اور شرمناک واقعہ

تاثیر 03 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

اکتس جولائی، 2025 کو انڈیگو کی پرواز میں پیش آنے والا واقعہ نہ صرف ایک افسوسناک سانحہ ہے بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ممبئی سے کولکتہ جانے والی اس پرواز میں ایک 32 سالہ مسلمان مسافر، حسین احمد مجمدار، کو ایک ساتھی مسافر نے یونہی تھپڑ مار دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بیمار اور کمزور نظر آنے والے شخص کو، جو کیبن کریو کی مدد لے رہا تھا، اچانک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف انفرادی طور پر شرمناک ہے بلکہ اسے ’اسلاموفوبیا‘ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جو بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت کی لہر کا ایک اور مظہر ہے۔
حسین احمد مجمدار، جو آسام کے کاچھر ضلع کے لاٹھیمارا گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں، اپنے خاندان کے مطابق ممبئی میں ایک ہوٹل میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کے والد عبدالمنان مجمدار نے بتایا کہ حسین کا موبائل فون گم ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ تاہم، وہ ٹرین کے ذریعے اپنے گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔ انڈیگو ایئرلائنز نے فوری طور پر ملزم کو سکیورٹی کے حوالے کر دیا اور اسے ’نو فلائی لسٹ‘ میں شامل کرکے بعد میں اسے چھوڑ بھی دیا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہی انصاف کا تقاضہ ہے ؟ سوشل میڈیا پر اس واقعے نے شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ صارفین نے اسے مذہبی منافرت سے جوڑتے ہوئے سخت تنقیدیں کی ہیں۔ معروف وکیل سنجے ہیگڑے نے انڈیگو کے کمزور ردعمل پر سوال اٹھائے ہیں، جبکہ صحافی رعنا ایوب نے ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’اگر اس قسم کی ذہنیت کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ معاشرے کے لئے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔‘ یہ ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام میں اس واقعے سے شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔ویڈیو میں واضح ہے کہ حسین احمد بیمار تھے اور کیبن کریو ان کی مدد کر رہا تھا۔ اس دوران ایک مسافر نے بغیر کسی واضح جواز کے انہیں زوردارتھپڑ رسید کر دیا۔ ویڈیو میں دیگر مسافروں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں، جو ملزم کے عمل کی مذمت کر رہے ہیں۔ ایک مسافر کہتا ہے، ’’تم نے اسے کیوں مارا؟ تمہیں کسی کو مارنے کا کوئی حق نہیں۔‘ ‘اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز میں موجود کچھ افراد نے اس عمل کو ناپسند کیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ردعمل اس واقعے کی سنگینی کو کم کر سکتا ہے؟
آسام پولیس کے مطابق، کولکتہ ایئرپورٹ پر سکیورٹی اہلکاروں نے حسین اور ملزم کے درمیان صلح کروائی، جس کے بعد دونوں کو جانے کی اجازت دی گئی۔ تاہم، یہ ’صلح‘ کس بنیاد پر ہوئی اور اس کے کیا نتائج نکلے، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ بدھ نگر پولیس کے ایک  سینئرافسر کے حوالے سے ’انڈین ایکسپریس‘ نے رپورٹ کیا کہ ملزم کو حراست کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ ایک واضح طور پر نفرت انگیز عمل کے باوجود ملزم کے خلاف ٹھوس قانونی کارروائی کرنے کی اب تک کوئی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔
یہ واقعہ محض ایک انفرادی عمل نہیں، بلکہ اس سے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی گہری جڑیں نظر آتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اسے ’اسلاموفوبیا‘ کا مظہر قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ بھارت میں حالیہ برسوں میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور یہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ صحافی سریوپانی نے اپنے تبصرے میں کہا کہ ’ہم نے اپنے ملک کو کتنا بگاڑ دیا ہے،‘ جو اس طرح سے معاشرتی زوال کی گہری تصویر پیش کرتا ہے۔صارفین کا ماننا ہے کہ انڈیگو کی جانب سے ملزم کو ’نو فلائی لسٹ‘ میں شامل کرنا ایک ابتدائی قدم ہے، لیکن اس سے زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لئے نہ صرف سخت قانونی کارروائی بلکہ معاشرتی سطح پر شعور بیدار کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ایئرلائنز اور ایئرپورٹ انتظامیہ کو اپنے عملے کی تربیت کو بہتر کرنا ہوگا تاکہ وہ اس طرح کے حالات کو فوری طور پر سنبھال سکیں۔ اس کے علاوہ، پولیس اور عدالتی نظام کو اس قسم کے نفرت انگیز جرائم کے خلاف سخت رویہ اپنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسی شرمناک حرکتوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
غور سے دیکھیں ! یہ واقعہ ہمیں ایک بڑے سوال کی طرف لے جاتا ہے: کیا ہمارا معاشرہ واقعی اس مقام پر پہنچ گیا ہے، جہاں ایک بیمار شخص کو صرف اس کے مذہب کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟  اگر اس سوال کا جواب ہاں ہے، تو ہمیں اپنے سماجی ڈھانچے پر گہری نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم نفرت کے اس زہر کے خلاف متحد ہوں اور اپنے وطن عزیز میںایک ایسی فضا قائم کریں ،جہاں ہر فرد اپنے عقیدے یا شناخت سے قطع ہر طرح سے محفوظ رہے۔