اردو ادب میں دو اہم اضافے ،ڈاکٹر علی حسین شائق کی نئی کتابوں کی شاندار رونمائی

تاثیر 05 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

کانکی نارہ، 05/ اگست (پریس ریلیز) شائق انسٹی ٹیوٹ آف ایجو کیشنل سپورٹ کے زیر اہتمام گزشتہ 2 اگست 2025  کی شام ریلوے سائڈ ئنگ‘باقر محلہ کے نزدیک اسٹوڈنٹس کلب میں  ڈاکٹر محمد علی حسین شائق کی دو نئی کتابوں ’’تصریح ادب‘‘ اور’’مغربی بنگال کے منتخب افسانہ نگار اور ان کی علامتیں‘‘کی رسم رونمائی منعقد ہوئی۔   اس تقریب کی صدارت ڈاکٹر دبیر احمد‘صدر پوسٹ گریجویٹ شعبہ اردو‘مولانا آزاد کالج کولکاتا نے کی‘جب کہ کتابوں کا اجرا احمد کمال حشمی‘جوائنٹ ڈائریکٹر لینڈ اینڈ لینڈ ریفارمز ڈپارٹمنٹ‘حکومت مغربی بنگال‘اور ڈاکٹر رضی شہاب‘صدر شعبہ اردو‘ویسٹ بنگال اسٹیٹ یونیورسٹی باراسات نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ اس موقع پر موجود تمام شخصیات نہ صرف علمی حلقے کی نمائندگی کر رہی تھیں بلکہ ان کے بیانات نے کتابوں کی معنویت اور مصنف کی خدمات پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر دبیر احمد نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کسی علاقے کو ادبی طور پر شناخت دینا آسان کام نہیں‘مگر ڈاکٹر علی حسین شائق نے یہ کام بخوبی انجام دیا ہے۔ کبھی یہی علاقہ ’جگت دل‘ کے نام سے جانا جاتا تھا‘مگر اب اسے شائق صاحب کی ادبی کاوشوں کے حوالے سے پہچانا جا رہا ہے۔ اُن کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو ادب میں نظریاتی سچائی‘فکری گہرائی اور فن کی تازگی اب بھی زندہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علامتی افسانے کا فہم محض زبان کا مسئلہ نہیں بلکہ ذہنی تجربے‘فکری پختگی اور فہم و ادراک کا امتحان ہے‘اور شائق نے ان افسانوں کی علامتی لغت تیار کر کے ایک بڑا علمی کارنامہ انجام دیا ہے۔ یہ محض تنقید نہیں بلکہ افہام و تفہیم کا ایک سنجیدہ عمل ہے۔
احمد کمال حشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر علی حسین شائق کی ادبی سرگرمیوں میں جو بے قراری اور دیوانگی نظر آتی ہے‘وہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ ادب سے محض تعلق نہیں رکھتے‘بلکہ عشق کی حد تک اس سے وابستہ ہیں۔ آج ان کی دو نئی کتابوں کی رونمائی ہوئی ہے‘جو یقیناً اردو ادب کیلئے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شائق صاحب کی تنقید کسی مکتب فکر کی تابع نہیں بلکہ جس فنکار نے انہیں متاثر کیا‘اس پر دیانت داری سے لکھا۔ یہی فکری آزادی اور اخلاقی جرات آج کے منظرنامے میں کمیاب ہے۔
مہمان خصوصی شیخ عرفان‘سابق جنرل منیجر نیشنل جوٹ مل کارپوریشن جگتدل‘نے اپنے خطاب میں کہا کہ شائق صاحب کی دونوں کتابیں مغربی بنگال کے اردو ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کتابوں کی اشاعت پر انہیں مبارک باد پیش کی۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد علی حسین شائق کی ادارت میں شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی مجلہ ’’زنبیل ادب‘‘  کا اجراڈاکٹر امتیاز احمد علیمی‘اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو کلکتہ گرلز کالج کے ہاتھوں ہوا۔
تقریب میں موجود دیگر دانشوروں اور اساتذہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا‘جن میں ، ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی‘ دائم محمد انصاری‘ ڈاکٹر محمد فاروق‘گیسٹ لیکچرار شعبہ اردو ویسٹ بنگال اسٹیٹ یونیورسٹی‘اورڈاکٹر تسلیم عارف‘اسسٹنٹ پروفیسر ویسٹ بنگال اسٹیٹ یونیورسٹی شامل ہیں۔ڈاکٹر  تسلیم عارف نے کہا کہ شائق صاحب کی کتابوں میں شامل تنقیدی مضامین ادبی تحقیق کا ایک قابلِ قدر نمونہ ہیں‘جن میں ایک طرف فکری گہرائی ہے تو دوسری طرف زبان کا حسن اور اسلوب کی روانی۔
تقریب کی نظامت ڈاکٹر افضال عاقل‘استاد شعبہ اردو بھیرہ گانگولی کالج نے کی۔ڈاکٹر علی حسین شائق نے اختتامی کلمات میں تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیااس تقریب کوکامیاب بنانے میںشمیم عامر‘محمد جاوید حسین اور محمد شاہد حسین نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی منظم کوششوں سے نہ صرف پروگرام خوش اسلوبی سے مکمل ہوا۔ علمی و ادبی حلقے سے تعلق رکھنے والے افراداورطلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے اس تقریب میں شرکت کی اور ڈاکٹر علی حسین شائق کی دونوں کتابوں کو اردو ادب کیلئے ایک اہم اضافہ قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت پیش کی گئی۔