تاثیر 07 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
سہرسہ(سالک کوثر امام) بنگاؤں تھانہ علاقہ میں آٹھویں جماعت کے طالب علم کی مشتبہ حالات میں موت سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ متوفی کی شناخت چین پور پنچایت وارڈ نمبر 09 کے رہنے والے ٹنٹن پنڈت کے بیٹے راجیش کمار عمر 13 کے طور پر کی گئی ہے۔ معلومات کے مطابق وہ چین پور کے مقامی ششی کلا مدھیہ ودیالیہ میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔
واقعے کے بعد مشتعل کنبہ کے افراد اور گاؤں والوں نے سمری بختیار پور این ایچ 107 کو بلاک کر دیا اور انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور انتظامی حکام کی یقین دہانی کے بعد ناکہ بندی ہٹا دی گئی۔
متوفی کی بڑی چاچی نیلم دیوی نے بتایا کہ بدھ کی صبح وہ معمول کے مطابق اسکول گیا تھا۔ دوپہر تقریباً 12 بجے اس نے اپنے ہم جماعت سبھاش سے کہا کہ وہ کچھ دیر بعد گھر واپس آئے گا۔ اس کے بعد وہ لاپتہ ہوگیا۔ پہلے تو گھر والوں نے سوچا کہ شاید وہ کہیں چلا گیا ہے اور گھر واپس آ جائے گا۔ لیکن رات گئے تک واپس نہ آنے پر تشویش بڑھ گئی۔ جمعرات کی صبح تقریباً 9 بجے طالب علم کی لاش اسکول کے احاطے سے متصل دیوار والی گلی میں پڑی ہوئی ملی۔ پولیس کو اطلاع دی گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی متوفی کی ماں رمبھا دیوی بے ہوش ہوگئیں۔ متوفی دو بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ والد ٹنٹن پنڈت ممبئی میں رہتے ہیں اور مزدوری کرتے ہیں۔ اسے بھی واقعہ کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ششیکلا مدھیہ ودیالیہ کے ہیڈ ماسٹر اودھیش کمار جھا نے بتایا کہ راجیش بدھ کو اسکول آیا تھا۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کی غیر جانبداری سے تحقیقات کر کے سچ سامنے لائے۔ فی الحال پولس پورے معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہے۔
بنگاؤں تھانہ انچارج پنکی کماری نے کیس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طالبہ کی موت کی وجہ کی جانچ کی جارہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی واضح معلومات سامنے آئیں گی۔
سہرسہ صدر کے ایس ڈی پی او آلوک کمار نے بتایا کہ بنگاؤں تھانہ کو صبح 9:10 پر اطلاع ملی۔ لاش کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ طالب علم کے دائیں ہاتھ پر جلنے کے نشانات ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی اصل وجہ معلوم ہوسکے گی۔

