تاثیر 08 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے عالمی سطح کی 25 کتابوں پر پابندی عائد کرکے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔انتظامیہ کے اس فیصلے کو فکری آزادی اور اظہار رائے کے حوالے سے انتہائی غیر دانشمندانہ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔جن 25 کتابوں پر پابندی عائد کی گئی ہے،ان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، اے جی نورانی، اور اروندھتی رائے جیسے معروف مصنفین کی تصانیف شامل ہیں، جن کا علمی اور ادبی حلقوں میں عالمی سطح پر احترام کیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک طرف قومی سالمیت کے تحفظ کے دعوؤں سے جڑا ہے، تو دوسری طرف اس نے جمہوری اقدار اور فکری تنوع کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔
ریاست کا بنیادی فرض امن و امان اور قومی یکجہتی کو یقینی بنانا ہے۔ کوئی بھی تحریر جو تشدد یاعلیٰحدگی پسندی کو ہوا دے، اس پر پابندی ایک فطری عمل ہو سکتا ہے۔ تاہم، کیا یہ کتابیں واقعی قومی مفاد کے لئے خطرہ ہیں؟ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ ایک علمی و فلسفیانہ کاوش ہے، جو عالم اسلام میں تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طرح ماہر قانون اے جی نورانی کی ’’دی کشمیر ڈسپیوٹ‘‘ آئینی اور تاریخی تناظر میں کشمیر کے مسئلے کو سمجھنے کی کوشش ہے، جبکہ معروف مصنفہ اور سوشل اکٹوسٹ اروندھتی رائے کی تصنیف ’’آزادی‘‘ معاشرتی سچائیوں کا ایک جرات مندانہ بیان ہے۔ ان تصانیف سے نظریاتی اختلاف ممکن ہو سکتا ہے، لیکن انہیں مکمل طور پرمسترد کرنا یا ان پرپابندی عائد کرنا کیا جمہوری روایت کے خلاف نہیں ہے؟
کتابوں پر پابندی وقتی طور پر کچھ آوازوں کو دبا سکتی ہے، لیکن یہ فکری تنوع اور علمی مباحث کے لئے زہر قاتل بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے سوچ پر قدغن لگائی، وہاں ترقی کی بجائے جمود نے جنم لیا۔ جب سوالات کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، تو وہ اور زیادہ شدت سے ابھرتے ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں، جہاں تاریخی تنازعات اور احتجاج کی لمبی روایت رہی ہے، مکالمے کی راہ اپنانا زیادہ دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔ اگر کوئی تحریر نقصان دہ سمجھی جاتی ہے، تو اس کا جواب پابندیوں سے نہیں، دلائل سے دیا جانا چاہیے۔
جن 25 کتابوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، ان میں وکٹوریہ شوفیلڈ کی ’’کشمیر ان کانفلکٹ‘‘ یا سمنترہ بوس کی ’’کشمیر ایٹ دی کراس روڈز‘‘، بین الاقوامی جامعات میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ تحریریں کشمیر کے پیچیدہ مسئلے کو تاریخی، سماجی اور انسانی حقوق کے زاویوں سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہیں’’ علیٰحدگی پسندی ‘‘ کا لیبل لگا کر رد کر دینا نہ صرف علمی بددیانتی ہے، بلکہ یہ اس حقیقت سے بھی انکار ہے کہ تنقید اور اختلاف ایک زندہ معاشرے کی علامت ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ صرف کتابوں پر پابندی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس سے ایک بڑا پیغام جاتا ہے کہ سوچ اور سوال اٹھانے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔ جموں و کشمیر کی تاریخ ہمیشہ سے سوالات اور احتجاج سے بھری رہی ہے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ الفاظ بھی قابل گرفت ٹھہرائے جا رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف فکری گھٹن کو بڑھاتا ہے، بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان عدم اعتماد کے فاصلے کو بھی وسیع کرتا ہے۔ ایک پراعتماد ریاست کو سوالات سے خوفزدہ ہونے کی بجائے پورے حوصلے کے ساتھ ان کا سامنا کرنا چاہیے۔
ریاست کو چاہیے کہ وہ فکری محاذ پر اعتماد کا مظاہرہ کرے۔ اگر وہ خود کو مضبوط سمجھتی ہے، تو اسے سوال اٹھانے والوں سے مکالمہ کرنا چاہیے، نہ کہ انہیں خاموش کرنے کی کوشش۔ کتابیں علم کی روشنی ہیں۔ انہیں بند کرنا معاشرے کو اندھیرے کی طرف دھکیلنا ہے۔ پابندیوں کی بجائے کھلے مکالمے اور علمی بحث کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ سوالوں کا جواب خاموشی سے نہیں، دلیل سے ملتا ہے۔ جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور فکری آزادی کو دبانے کی بجائے اسے گلے لگائے۔ یہ پابندی ایک ایسی نظیر قائم کرتی ہے، جو مستقبل میں دیگر خطوں یا موضوعات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگر آج کشمیر کے تناظر میں کتابوں پر پابندی جائز قرار دی جاتی ہے، تو کل کوئی اور موضوع یا خیال بھی اسی طرح نشانہ بن سکتا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف علمی ترقی کو روکتا ہے، بلکہ معاشرے میں خوف و حراس کو فروغ بھی دیتا ہے۔ ایک جمہوری معاشرے کی طاقت اس کے تنوع اور کھلے پن میں ہے، نہ کہ یکسانیت اور بندشوں میں۔
بہر حال کشمیر کے تناظر میں، جہاں پہلے ہی اعتماد کا فقدان ہے، یہ فیصلہ عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو شراکت دار سمجھے، نہ کہ دشمن۔ مکالمہ، تنقیداور سوال ایک زندہ معاشرے کی نشانیاں ہیں، اور انہیں دبانے سے نہ سوچ رکتی ہے، نہ مسائل حل ہوتے ہیں۔ ایک پراعتماد قوم وہ ہے، جو سوچ سے نہ ڈرے، بلکہ اسے اپنی طاقت بنائے۔
*********

