تاثیر 09 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار اسمبلی انتخابات، 2025 کی گہماگہمی کے درمیان نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپنے ہندتوا ایجنڈے کو کھل کر پیش کرتے ہوئے، اسےپر جوش انداز میں عملی شکل دینا شروع کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ریاست میں جاری ووٹر لسٹ کے ایس آئی آرکی حمایت میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے۔ سیتامڑھی ضلع میںواقع پونورا دھام میں گزشتہ جمعہ کو ماتا جانکی مندر کی تعمیر کے لئے بھومی پوجن تقریب منعقد کی گئی تھی۔اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیراعلیٰ نتیش کمار نے 882 کروڑ روپے کی لاگت سےبنائے جانے والے مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر امیت شاہ نے مذہبی جذبات کو جھنجھوڑتے ہوئے ترقیاتی وعدوں اور سیاسی پیغامات پر مبنی اپنے منفرد انداز والی تقریر کی ۔انکےلہجے سے ہی یہ واضح تھا کہ ان کا مقصدمتھلانچل کےووٹروں کے دلوں کو اپنےایجنڈے سے جوڑناہے۔
عوامی سطح پر بھی مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریب محض ایک مذہبی پروگرام نہیں تھی، بلکہ اس کا سیاسی تناظر بھی تھا۔ امیت شاہ نے ماتا جانکی مندر کو نہ صرف ایک عظیم الشان مندر کے طور پر پیش کیا بلکہ اسےمتھلانچل اور بہار کے’’بھاگیہ اُودے‘‘ کا نقطہ آغاز قرار دیا۔ ان کے خطاب میں رام اور سیتا سے متعلق تاریخی اور ثقافتی حوالوں کا استعمال، ہندتوا کے بیانیے کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش تھی۔ متھلانچل کی ثقافت کو بھارت کی شناخت کا ایک لازمی حصہ بتاتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ این ڈی اے کی ترجیحات میں مذہبی شناخت اور ترقیاتی ایجنڈا ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ اسی دوران، انہوں نے رامائن کے دور کے ایک واقعے کا ذکر کیا جب راجہ جنک کے ہل چلانے سے سیتا جی کا ظہور ہوا اور اس کے بعد ہوئی بارش سے قحط سے نجات ملی تھی۔سنگ بنیاد کے موقع پر ہوئی تیز بارش کو امیت شاہ نے ماتا جانکی کے آشیرواد سے تعبیر کیا، جو کہ ووٹروں کے جذبات کو متحرک کرنے کی ایک مؤثر حکمت عملی تھی۔
این ڈی اے کی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو ووٹر لسٹ کے رویزن کے معاملے میں اپوزیشن کے خلاف سخت موقف ہے۔ امیت شاہ نےسیتامڑھی میں اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ’’جو ہندوستان میں پیدا نہیں ہوا، اسے ووٹ دینے کا حق آئین نہیں دیتا ہے‘‘۔ انہوں نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس پر غیر قانونی طور پر ملک میں رہنے والوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ووٹر لسٹ کے پہلے مسودے پر کوئی اعتراض نہیں جتایا ہے، جو ان کے بقول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ملک میں رہنے والوں کو تحفظ دینا چاہتے ہیں۔امت شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا لالو یادو اور ان کے اتحادی ’’ در اندازوں‘‘ کو بچانا چاہتے ہیں، جو مقامی لوگوں کے روزگار کو متاثر کرتے ہیں ؟ اس بیانیے کے ذریعے این ڈی اے نے قومی سلامتی اور ووٹ بینک کی سیاست کے خلاف ایک مضبوط پیغام دینے کی کوشش کی ہے، جو بہار کے ووٹروں میں ایک خاص طبقے کو اپیل کر سکتا ہے۔
تاہم، اس بیانیے کے دو رخ ہیں۔ ایک طرف، این ڈی اے کا ہندتوا ایجنڈا اور ترقیاتی وعدے، جیسے کہ ماتا جانکی مندر اور ریلوے کے منصوبوں کے لئے 10 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ، بہار کے متھلانچل میں این ڈی اے کی پذیرائی کا سبب بن سکتا ہے۔ دوسری جانب، ایس آئی آر جیسے حساس مسائل پر سخت گیر موقف اپوزیشن کو ایک جوابی بیانیہ تیار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آر جے ڈی اور کانگریس اسے اقلیتوں کے خلاف ایک ہتھکنڈے کے طور پر پیش کر سکتے ہیں، جو بہار جیسے متنوع صوبے میں سیاسی تقسیم کو گہرا کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ نتیش کمار کی موجودگی اور ان کی طرف سے مندر کے ترقیاتی منصوبوں کی حمایت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جے ڈی یو پوری طرح سےبی جے پی کے ایجنڈے کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ تاہم، نتیش کمار کی سیاسی ساکھ ترقیاتی کاموں پر منحصر ہے، اور وہ اسے مذہبی ایجنڈے کے ساتھ متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سیاسی ماہرین کے مطابق یہ امتزاج این ڈی اے کے لئے فائدہ مند ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اگر اپوزیشن اسے ووٹ بینک کی سیاست سے جوڑنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ حکمت عملی الٹا اثر بھی دکھا سکتی ہے۔
بہر حال بہار کا انتخابی میدان ابھی سے گرم ہو چکا ہے، اور این ڈی اے اپنی حکمت عملی سے ہندتوا کے جوش، ترقیاتی وعدوں اور قومی سلامتی کے بیانیے کو ملا کر ایک مضبوط چناوی محاذ تیار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ماتا جانکی مندر کا سنگ بنیاد اور ایس آئی آر کی حمایت اس سفر کے اہم سنگ میل ہیں۔ لیکن، کیا یہ بیانیہ بہار کے متنوع ووٹروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا سکے گا ؟ یہ وہ سوال ہے، جس کا جواب مناسب وقت پر ووٹرز اپنے فیصلے کے ذریعہ ہی دے سکیں گے۔
*****************

