فتحپور سانحہ : سب کے لئے سبق

تاثیر 12 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت کی سرزمین، جو سیکولرزم اور ہم آہنگی کی مثال رہی ہے، آج کل فرقہ وارانہ نفرت کی زد میں آتی جا رہی ہےگزشتہ روز، یعنی 11 اگست، 2025 کو اتر پردیش کے فتحپور ضلع میں جو کچھ ہوا، وہ نہ صرف ایک تاریخی مقام کی توہین تھا بلکہ ملک کی جمہوری اقدار پر براہ راست حملہ تھا۔ نواب عبدالصمد کی تقریباً 200 سال پرانی قبر کو شیو مندر قرار دے کر ہندو انتہاپسندوں کی ایک بھیڑ نے اس پر حملہ کیا، بھگوا جھنڈا لگایا، توڑ پھوڑ کی اور مذہبی نعرے لگائے۔ یہ سب کچھ پولیس کی موجودگی میں ہوا، جو مبینہ طور پر مکھ لال پال، بی جے پی کے ضلعی صدر کی قیادت میں جمع ہوئی بھیڑ کو روکنے میں ناکام رہی۔ یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہمارے ادارے فرقہ پرستی کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں؟
واقعے کی تفصیلات دل دہلا دینے والی ہیں۔ صبح نو بجے سے ہی ہندو تنظیموں کے ارکان ڈاک بنگلہ کے قریب جمع ہونے لگے تھے۔ بی جے پی لیڈر کے آنے کے بعد بھیڑ بڑھتی گئی۔ اور دوپہر 11 بجے تک سیکڑوں کی تعداد میں لوگ وہاںپہنچ گئی۔ پولیس نے مزار کی طرف جانے والی ہر گلی پر بیریکیڈنگ لگائی تھی، پی اے سی اور پولیس فورس تعینات تھی، حتیٰ کہ آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی تیار تھیں۔ مگر جب بھیڑ نے بیریکیڈ توڑے اور مزار پر چڑھائی کی، تو پولیس افسران، جیسے سی او سٹی گورو شرما اور کوتوال تارکیشور رائے، انہیں روکنے میں ناکام رہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے شروع میں روکنے کی کوشش کی مگر بھیڑ کی تعداد اور جارحیت کے سامنے پسپا ہو گئی۔ اس دوران مزار کے اندر موجود قبروں کو نقصان پہنچایا گیا، اور جب دوسری کمیونٹی کے لوگوں نے پتھراؤ شروع کیا تو صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ تقریباً تین گھنٹے تک روڈ پر جام لگا رہا، اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات دی گئیں۔ ڈی ایم اور ایس پی کے موقع پر پہنچنے کے بعد ہی حالات پر قابو پایا گیا، مگر تب تک نقصان ہو چکا تھا۔
یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک منظم کوشش کا نتیجہ لگتا ہے۔ بی جے پی لیڈر کی قیادت میں جمع ہونے والی بھیڑ اور پولیس کی مبینہ بے بسی یہ اشارہ دیتی ہے کہ سیاسی سرپرستی میں فرقہ وارانہ عناصر کو کھلی چھوٹ مل رہی ہے۔ تازہ ترین اپڈیٹس کے مطابق، پولیس نے اب کیس درج کر لیا ہے۔ ضلع پنچایت ممبر اجے سنگھ، سمیت 10 نامزد اور 150 نامعلوم افراد پر لوک سمپتی ایکٹ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔ گرفتاریوں کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، اور شہر میں بھاری پولیس فورس تعینات ہے۔ حالات اب پرامن ہیں، اور ضلعی انتظامیہ نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کارروائی دیر آید درست آید ہے؟  اگر پولیس پہلے سے الرٹ تھی تو یہ حملہ کیسے ممکن ہوا؟
تجزیاتی طور پر دیکھیں تو یہ واقعہ بھارت میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کی علامت ہے۔ ایک طرف تاریخی مقامات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں مزار کو ’’ہزار سال پرانا شیو مندر‘‘ قرار دے کر حملہ کیا گیا، جو دستاویزات کے برعکس ہے۔ دوسری طرف، دوسری کمیونٹی کی طرف سے پتھراؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یہ دونوں اطراف کی جارحیت جمہوریت کے لیے خطرہ ہے، مگر اصل ذمہ داری حکومت اور اداروں پر ہے کہ وہ غیر جانبدار رہیں اور اقلیتوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ یوگی حکومت پر الزام لگ رہے ہیں کہ اس کی ’’سرپرستی‘‘ میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں، جو انتخابی فائدے کے لئے پولرائزیشن کا ہتھیار بنتے ہیں۔ مگر متوازن نظر سے، یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ پولیس نے آخر کار لاٹھی چارج کر کے بھیڑ کو منتشر کیا، اور اب قانونی کارروائی کی جاری ہے۔
بھارت کی جمہوری اقدار کا تحفظ اسی میں ہے کہ ایسے نفرت انگیز واقعات کی شدید مذمت کی جائے اور انہیں روکا جائے۔ سیکولرزم ہمارا آئینی اصول ہے، جو تمام مذاہب کی مساوی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔ فتحپور کا یہ واقعہ ایک انتباہ ہے کہ اگر ادارے کمزور پڑے تو فرقہ وارانہ آگ پورے ملک کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ نہ صرف ملزمان کو سخت سزا دے بلکہ ایسے عناصر کو روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کرے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ہم آہنگی کو برقرار رکھیں اور نفرت کے بیوپاریوں کا ساتھ نہ دیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر جمہوریت کی حفاظت کریں، کیونکہ نفرت کی یہ آگ سب کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔ آخر میں، یقین ہے کہ فتحپور کا یہ سانحہ حکومت اور عوام یعنی سب کے لئے ایک سبق بنے گا ، اور بھارت اپنے تنوع کی خوبصورتی کو کبھی بگڑنے نہیں دے گا۔
************