تاثیر 18 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بھارت، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت ہے، آج کل ایک ایسے بحران کا شکار ہے جو نہ صرف اس کی ترقی کی رفتار کو سست کر رہا ہے بلکہ لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بھی مفلوج بنا رہا ہے۔ یہ بحران ہے ٹریفک کی شدید الجھنوں کا، جو بارش کی چند گھڑیوں میں شہروں کو پانی اور گاڑیوں کے سیلاب میں تبدیل کر دیتا ہے۔ کل سوموار کو چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گَو ئی نے اس مسئلے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں اگر دو گھنٹے بارش ہو جائے تو پورا شہر مفلوج ہو جاتا ہے۔ ان کا یہ تبصرہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کی ایک عرضی کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ یہ عرضی کیرالا ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف دائر ایک اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کیرالا کے ایک ہائی وے پر 12 گھنٹے تک جاری رہنے والے ٹریفک جام پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر ایک شخص کو سڑک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں اتنا وقت لگے تو وہ ٹول ٹیکس کیوں ادا کرے؟ یہ تبصرہ نہ صرف عدالت کے سخت موقف کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ایک بڑے قومی مسئلے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے ،جسے سالوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
تصور کیجیے د ہلی کے ایک عام باشندے کی صبح۔وہ گھر سے نکلتا ہے، دفتر جانے کے لئے، لیکن سڑکوں پر گاڑیوں کا ہجوم، پانی سے بھری گلیاں اور مسلسل ہارن کی آوازیں، اسے گھنٹوں روکے رکھتی ہیں۔ بارش کا موسم تو اس بحران کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔ دہلی جیسی میگا سٹی میں، جہاں آبادی کروڑوں میں ہے، پانی کی نکاسی کا نظام انتہائی خستہ حال ہے ۔ سڑکیں، جو برسوں پہلے کی ضروریات کے مطابق بنی تھیں، اب تیزی سے بڑھتی ہوئی شہر ی کاری کا بوجھ برداشت نہیں کر پا رہی ہیں، جس کا نتیجہ اربوں روپے کا معاشی نقصان ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت میں ٹریفک جام کی وجہ سے سالانہ 22 بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، جو جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ یہ صرف پیسے کی بات نہیں، انسانی جانوں کا بھی سوال ہے۔ حادثات، تناؤ سے پیدا ہونے والی بیماریاں اور آلودگی کی وجہ سے صحت کے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ کیرالا کا وہ ہائی وے، جہاں 12 گھنٹے کا جام ایک معمول بن گیا ہے، اس کی ایک زندہ مثال ہے کہ کیسے ناقص منصوبہ بندی اور تعمیراتی تاخیر شہریوں کو سزا دے رہی ہے۔
یہ مسئلہ صرف دہلی یا کیرالا تک محدود نہیں بلکہ ممبئی، بنگلور، چنئی اور حتیٰ کہ چھوٹے بڑے تمام شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ سب سے پہلے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد ہے۔ بھارت میں ہر سال لاکھوں نئی گاڑیاں سڑکوں پر آتی ہیں، لیکن سڑکوں کی لمبائی اور معیار میں اضافہ اس رفتار سے نہیں ہو رہا ہے۔ دوسرا، کرپشن اور ناقص حکمرانی ہے۔ این ایچ اے آئی جیسی ایجنسیاں ہائی ویز بنانے کا دعویٰ تو کرتی ہیں، لیکن پروجیکٹس میں تاخیر، ناقص مواد اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ تیسرا، ماحولیاتی عوامل ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بارشوں کی شدت بڑھ رہی ہے، اور شہری منصوبہ بندی میں پانی کی نکاسی اور سبز جگہوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کل ملاکرچیف جسٹس کا بیان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عدالت کو بھی اب اس معاملے میں مداخلت کرنی پڑ رہی ہے، کیونکہ انتظامیہ کی ناکامی جگ ظاہر ہے۔
تاہم، یہ تصویر مکمل طور پر تاریک نہیں ہے۔ حکومت نے کچھ مثبت اقدامات بھی کیے ہیں۔ نیشنل ہائی ویز پروگرام کے تحت ہزاروں کلومیٹر نئی سڑکیں بنی ہیں، بھارت مالا پروجیکٹ سے سرحدی علاقوں کو جوڑا جا رہا ہے، اور سمارٹ سٹی مشن میں ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو جدید بنایا جا رہا ہے۔ دہلی میٹرو جیسی پبلک ٹرانسپورٹ نے لاکھوں لوگوں کو سڑکوں سے دور رکھا ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال، جیسے جی پی ایس بیسڈ ٹریفک مانیٹرنگ اور اے آئی سے چلنے والے سگنلز، کچھ شہروں میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ کوششیں ناکافی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اقدامات صرف بڑے شہروں تک محدود ہیں، اور دیہی علاقوں میں اب بھی بنیادی ڈھانچہ کمزور ہے۔ مزید برآں، ٹول ٹیکس کا نظام، جو چیف جسٹس نے سوال اٹھایا، شفاف نہیں ہے۔ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں توقع کے ساتھ کہ سڑکیں محفوظ اور تیز رفتار ہوں گی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اس بحران سے نکلنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، شہری منصوبہ بندی کو دوبارہ ڈیزائن کیا جائے، جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دی جائے۔ الیکٹرک بسیں، سائیکل ٹریکس اور پیدل چلنے والوں کے لئے محفوظ راستے بنائے جائیں۔ دوسرا، ٹریفک قوانین کی سخت پابندی ہو ۔اس کے تحت جرمانے اور نگرانی کو بڑھایا جائے۔ تیسرا، کرپشن پر قابو پانے کے لئے شفاف ٹینڈرنگ اور عوامی احتساب ضروری ہے ۔ چوتھا، ماحولیاتی تحفظ ہے، جس میں درخت لگانا، پانی کی نکاسی کو بہتر بنانا اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے طویل مدتی پلان شامل ہے۔ عدالت کا کردار اہم ہے، لیکن اصل ذمہ داری حکومت اور شہریوں پر ہے۔ اپنی نجی گاڑیوں کو ترک کرکے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال اور ٹریفک قوانین کی پابندی کے ذریعہ انھیں بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔بہر حال چیف جسٹس آف انڈیا کا تلخ تبصرہ ایک وارننگ ہے کہ اگر اب بھی نہ جاگے تو ٹریفک کی یہ الجھنیں بھارت کی ترقی کو روک دیں گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اس خاموش قاتل سے لڑیں، تاکہ اپنے شہر کے ساتھ ساتھ ہم شہری بھی زندہ رہیں۔
****************

