حماس نے غزہ پر قطر اور مصر کی جنگ بندی کی نئی تجویز کو منظوری دی

تاثیر 19 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

قاہرہ (مصر)/دوحہ (قطر)/تل ابیب (اسرائیل)، 19 اگست:حماس نے غزہ کے لیے قطر اور مصر کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی نئی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ اس تجویز کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ حماس کے ساتھ مذاکرات سے وابستہ دو سفارت کاروں اور ایک مصری اہلکار نے پیر کو یہ معلومات دی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اس تجویز کو قبول کریں گے یا نہیں۔
نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطر اور مصر نے غزہ شہر پر اسرائیل کے ممکنہ زمینی حملے سے قبل ثالثی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ نئی تجویز کی شرائط وہی پرانی ہیں۔ اسرائیل انہیں پہلے ہی قبول کر چکا ہے۔ ان میں عارضی جنگ بندی اور جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے طویل مدتی معاہدہ شامل ہے۔ اسرائیل پہلے ہی ابتدائی جنگ بندی کے تحت فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں غزہ میں زندہ رہنے والے یرغمالیوں میں سے نصف کو رہا کرنے پر راضی ہو چکا ہے اور بقیہ کو ایک وسیع فالو اپ ڈیل کے تحت رہا کر دیا جائے گا۔

حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اور دیگر فلسطینی گروپوں نے اتوار کو مصری اور قطری ثالثوں کی تجویز پر اتفاق کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 20 یرغمالی اب بھی زندہ ہیں۔ 30 دیگر افراد کی لاشیں غزہ میں موجود ہیں۔ نیتن یاہو کے دفتر نے پیر کے روز تبصروں میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں پر بات نہیں کی۔ نیتن یاہو نے کہا، ”میں میڈیا میں رپورٹس سنتا ہوں، اس وقت یہ یقینی ہے کہ حماس شدید دباؤ میں ہے۔”

نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیل اب اس معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتا جس میں صرف چند یرغمالیوں کی رہائی شامل ہو۔ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف نے رواں ماہ اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ سے ملاقات میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اب تمام زندہ یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ تمام یرغمالیوں کو اس شرط پر رہا کرنے کے لیے تیار ہے کہ اسرائیل جنگ ختم کرے۔