تنخواہ کب ملے گی؟ مدرسہ کے اساتذہ نے نتیش کمار کے سامنے کیاہنگامہ

تاثیر 21 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ،21اگست:بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ایک بار پھر ہنگامہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دراصل پٹنہ کے باپو آڈیٹوریم میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی صد سالہ تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ کئی وزراء بھی موجود تھے۔ اس دوران مدرسہ کے اساتذہ نے تنخواہ کا مسئلہ اٹھا کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔
اطلاعات کے مطابق 209 مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں پھنسی ہوئی ہیں۔ ان میں سے کئی مدرسوں کے اساتذہ کو ڈیڑھ سال سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ اساتذہ نے اس معاملے پر آواز اٹھائی۔ پروگرام کے دوران جب ہنگامہ شروع ہوا تو نتیش کمار آگے بڑھے اور جاننا چاہا کہ مسئلہ کیا ہے۔ اساتذہ نے اپنی بات وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے سامنے رکھی۔ یہی نہیں اس دوران کئی امیدوار بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پروگرام میں بلانے کے لیے 1659 مدارس سے متعلق ایک بڑا اعلان کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔وعدے کے مطابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار یا ان کے وزراء￿ کی طرف سے اس بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس سے ناراض امیدواروں نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ یہ ہنگامہ وزیراعلیٰ کے جانے کے بعد بھی جاری رہا۔ حالات پر کسی طرح قابو پایا گیا اور لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی گئی۔
واضح ہو کہ 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر پٹنہ کے باپو سبھاگار میں بہارمدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی جانب سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں بہار بھر سے مسلمانوں نے شرکت کی۔ بہار میں 3558 مدارس ہیں جن میں سے حکومت فی الحال 1942 مدارس کو مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ پروگرام میں پہنچے مدرسہ کے ارکان نے بھی گرانٹ پر ہنگامہ کیا۔ نالندہ سے آئے تنویر نے کہا کہ ہم مایوس ہیں۔