کرپشن مخالف بل یا انتخابی حکمت عملی؟

تاثیر 21 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارت کی سیاست ان دنوں عجیب طرح کی ہلچل سے دوچار ہے۔ریاست بہار میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) تنازع اور ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات نے اپوزیشن کو سڑکوں سے لے کر پارلیمنٹ تک متحرک کر دیا ہے۔ اسی دوران، پارلیمنٹ میں،مانسون سیشن کے آخری دن سے ایک روز قبل یعنی 20 اگست کو، مرکز میں برسراقتدار نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے ایک ایسا بل پیش کیا ، جس میں بدعنوانی کے الزامات میں سزا یافتہ وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ یا وزرا کو عہدے سے ہٹانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ بل، جو پانچ سال سے زائد سزا والے جرائم میں 30 دن سے زیادہ قید کی صورت میں عہدہ چھیننے اور رہائی کے بعد بحالی کی شق رکھتا ہے، ایک بڑی سیاسی بحث کا محور بن گیا ہے۔ اپوزیشن کے شدید ردعمل نے اسے ایک نئے تنازع کی شکل دے دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ این ڈی اے نے اس وقت اس بل کو کیوں پیش کیا، اور اس کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے؟
اس بل کی پیشکش کے ساتھ ہی اسے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجنے کا اعلان کر دیا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو اسے فوری طور پر پاس کرانے کی جلدی نہیں ہے۔ آئینی ترمیمی بل ہونے کی وجہ سے اسے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت اور نصف سے زائد ریاستی اسمبلیوں کی منظوری درکار ہے۔ لوک سبھا میں این ڈی اے کے پاس 293 ووٹ ہیں، جبکہ دو تہائی اکثریت کےلئے 361 ووٹ چاہئیں۔ راجیہ سبھا میں 239 ارکان میں سے این ڈی اے کے پاس 132 ووٹ ہیں، جبکہ 160 ووٹ درکار ہیں۔ غیر جانبدار جماعتوں کی حمایت کے باوجود یہ ہدف مشکل ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بل کا فوری طور پر پاس ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ پھر بھی، این ڈی اے نے اسے پیش کر کے ایک ایسی سیاسی چال چلی ہے، جو بدعنوانی کے خلاف اس کے عزم کا اظہار کرتی ہے۔
سیاسی تناظر میں، یہ بل بہار کے ایس آئی آر تنازع کے دوران پیش کیا گیا ہے، جہاں اپوزیشن نے این ڈی اے پر ووٹر لسٹوں سے چھیڑ چھاڑ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، اس بل کا مقصد بدعنوانی کے خلاف عوامی بیانیہ بنانا ہے۔ حالیہ برسوں میں، کئی رہنما، جیسے دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال، بدعنوانی کے الزامات میں جیل جانے کے باوجود عہدوں پر برقرار رہے۔ تمل ناڈو کے ایک وزیر کے معاملے میں سپریم کورٹ کی سرزنش بھی اس خلا کو اجاگر کرتی ہے کہ آئین میں ایسی صورتحال کے لئے کوئی واضح رہنمائی موجود نہیں ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ بل بدعنوانی کے خلاف ایک مضبوط پیغام دینے کی کوشش ہے، خاص طور پر بہار کے انتخابات سے قبل، جہاں این ڈی اے اپوزیشن کے الزامات کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مثبت بیانیہ بنانا چاہتا ہے۔
تاہم، اپوزیشن نے اس بل کو سیاسی چال قرار دے کر اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ وہ اسے ایک ہتھکنڈہ سمجھتی ہے، جو این ڈی اے کو بدعنوانی مخالف ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اپوزیشن کے مطابق اس بل کے ذریعہ ایس آئی آر جیسے سنگین مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر اپوزیشن جے پی سی میں شامل ہونے سے انکار کرتی ہے، تو این ڈی اے اسے بدعنوانی کے حامی کے طور پر پیش کر سکتی ہے، جو عوام میں ایک طاقتور بیانیہ بن سکتا ہے۔ دوسری طرف، اگر بل بحث کے بعد ناکام ہوتا ہے، تو اپوزیشن اسے این ڈی اے کی ناکامی کے طور پر پروجیکٹ کر سکتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ بل ایک طرف بدعنوانی کے خلاف لڑائی کا عزم ظاہر کرتا ہے، تو دوسری طرف اس میں سیاسی حکمت عملی بھی مضمر ہے۔ بہار کے تنازع کے سائے میں، این ڈی اے نے اس کے ذریعہ ایک ایسا بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے اسے اخلاقی برتری حاصل ہو۔ تاہم، اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ عوام اسے کس طرح دیکھتے ہیں۔ اگر یہ بل قانون بنتا ہے، تو یہ بھارتی سیاست میں ایک تاریخی قدم ہوگا، لیکن اگر یہ محض سیاسی داؤ کے طور پر رہ جاتا ہے، تو یہ صرف ایک اور انتخابی چال ثابت ہوگا۔ ایسی صورت میں یہ این ڈی اے کے لئے نقصاندہ بھی ہو سکتا ہے۔
***