تاثیر 22 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
عالمی معاشی و سیاسی منظر نامے پر ایک نیا موڑ آیا ہے، جہاں بھارت کو امریکی ٹیرف کی شکل میں معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس دوران چین نے کھل کر بھارت کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جو نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے لئے ایک اہم لمحہ ہے بلکہ عالمی طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ امریکی پابندیوں، خاص طور پر 50 فیصد ٹیرف، نے بھارت کے لئے چیلنجز بڑھا دیے ہیں، لیکن چین کے سفارت کار شو فیہونگ کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بیجنگ نئی دہلی کے ساتھ مل کر امریکی ’’غلبے‘‘ اور ’’تحفظ پسندی‘‘ کے خلاف ایک مضبوط موقف اپنانا چاہتا ہے۔ یہ صورتحال برکس اور آر آئی سی جیسے پلیٹ فارمز پر بھارت، چین اور روس کے ممکنہ اتحاد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتحاد عالمی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا؟
امریکہ کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف، جس میں 25 فیصد تجارتی ڈیوٹی اور روس سے تیل کی خریداری پر 25 فیصد جرمانہ شامل ہے، ایک سیاسی اور معاشی دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ بھارت کی روس سے تیل کی خریداری روس-یوکرین جنگ کو مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ تاہم، بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اس پس منظر میں، چین کے سفارت کار شو فیہونگ کا بیان کہ ’’چین بھارت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے‘‘ ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے امریکی ٹیرف کو ’’سودے بازی کا ہتھکنڈہ‘‘ قرار دیتے ہوئے عالمی تجارت میں امریکی غلبے کی مذمت کی ہے۔ یہ بیان نہ صرف بھارت کےلئے حوصلہ افزا ہے بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک مشترکہ آواز اٹھانے کی دعوت بھی ہے۔
چین کی جانب سے بھارتی مصنوعات کے لئے اپنے بازار کھولنے کا عندیہ ایک مثبت اشارہ ہے۔ فیہونگ نے آئی ٹی، سافٹ ویئر اور بائیو میڈیسن میں بھارت کی برتری اور چین کی الیکٹرانک مینوفیکچرنگ، انفراسٹرکچر اور قابل تجدید توانائی میں ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے بازاروں کا اشتراک ’’ایک اور ایک گیارہ‘‘ کا اثر پیدا کر سکتا ہے۔ بھارت نے بھی برکس ممالک کے ساتھ روپے میں تجارت کی اجازت دے کر اور چین نے کھاد اور ٹنل مشینوں پر پابندی ہٹا کر تعاون کی راہ ہموار کی ہے۔ روس کی جانب سے بھارت کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی اس اتحاد کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ برکس اور آر آئی سی جیسے پلیٹ فارمز پر یہ تعاون امریکی ڈالر کے غلبے کو چیلنج کر سکتا ہے، جو عالمی معاشی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
تاہم، یہ اتحاد بغیر چیلنجز کے نہیں ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات اور تاریخی عدم اعتماد اب بھی ایک رکاوٹ ہیں۔ چین کی حمایت کو کچھ حلقوں میں سیاسی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس کا مقصد امریکی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا ہے۔ اس کے باوجود، فیہونگ کا زور کہ دونوں ممالک مل کر’’ایشیائی معجزہ‘‘ کو برقرار رکھ سکتے ہیں، ایک پرامید پیغام ہے۔ اگر بھارت اور چین اپنے اختلافات کو پس پشت رکھ کر معاشی اور سیاسی تعاون پر توجہ دیں تو وہ ترقی پذیر ممالک کی مضبوط آواز بن سکتے ہیں۔
یہ صورتحال عالمی سیاست کی شطرنج کی ایک ایسی بساط ہے، جہاں بھارت اور چین مل کر امریکی دباؤ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ یہ اتحاد برکس اور آر آئی سی کے ذریعے عالمی سطح پر ایک نئی قوت بن سکتا ہے، لیکن اس کی کامیابی دونوں ممالک کے باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر منحصر ہے۔ 27 اگست سے نافذ ہونے والے امریکی ٹیرف کے اثرات بھارت کی معیشت پر پڑیں گے، لیکن چین کی حمایت اور برکس کی مشترکہ حکمت عملی اسے کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ یہ وقت بھارت کے لئے اپنی سفارتی اور معاشی صلاحیتوں کو آزمانے کا ہے، تاکہ وہ عالمی میدان میں ایک متوازن اور طاقتور کردار ادا کر سکے۔
*****************

