تاثیر 25 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 25 اگست: دہلی ہائی کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگری تنازعہ کے معاملے پر سنٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کے حکم کے خلاف دہلی یونیورسٹی کی طرف سے دائر عرضی کو قبول کرتے ہوئے سی آئی سی کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ جسٹس سچن دتہ کی بنچ نے یہ حکم دیا۔
عدالت نے 27 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران دہلی یونیورسٹی نے کہا تھا کہ وہ عدالت کو ڈگری دکھا سکتی ہے لیکن کسی اجنبی کو نہیں۔ دہلی یونیورسٹی کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ ایک ایسے طالب علم کی ڈگری مانگی جا رہی ہے جو آج ملک کا وزیر اعظم ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دہلی یونیورسٹی میں چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ یونیورسٹی ہر سال ایک رجسٹر رکھتی ہے۔ مہتا نے کہا تھا کہ دہلی یونیورسٹی عدالت کو ڈگری دکھا سکتی ہے لیکن ڈگری کسی اجنبی کو نہیں دکھائی جا سکتی۔
اس معاملے میں سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ حق اطلاعات قانون کے تحت کسی طالب علم کو ڈگری دینا پرائیویٹ ایکٹ نہیں بلکہ پبلک ایکٹ ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے وکیل شادان فراست نے کہا کہ حق اطلاعات قانون کے تحت دہلی یونیورسٹی ایک پبلک اتھارٹی ہے۔ ایسی صورت حال میں معلومات حاصل کرنے والے شخص کی نیت کی بنیاد پر کسی کی ڈگری کے بارے میں معلومات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

