مصنوعی ذہانت کا انسانی زندگی پر اثر

تاثیر 27 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

ریحان فضل

آج کی دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس ترقی کی بنیاد جدید ٹیکنالوجی ہے۔ انہی جدید ایجادات میں سب سے اہم ایجاد مصنوعی ذہانت ہے جسے انگریزی میں Artificial Intelligence کہا جاتا ہے۔ یہ ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انسانی دماغ کی طرح سوچنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس نے انسان کی زندگی کے تقریباً ہر شعبے پر اپنا اثر ڈالا ہے اور دنیا کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔
تعلیم کے میدان میں مصنوعی ذہانت نے انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ آج طالب علم دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھ کر آن لائن تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ خودکار نظام کے ذریعے اس کی سیکھنے کی صلاحیت کو جانچا جاتا ہے اور اسے اس کے مطابق رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ سہولت پہلے ممکن نہ تھی مگر اب تعلیم کے مواقع سب کے لیے یکساں ہو گئے ہیں۔
صحت کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت نے حیران کن ترقی کی ہے۔ پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص اب مشینوں کی مدد سے زیادہ درستگی کے ساتھ ممکن ہو چکی ہے۔ روبوٹ سرجری اور جدید سافٹ ویئر ڈاکٹرز کے معاون بن گئے ہیں۔ اس سے مریضوں کے لیے علاج کے بہتر مواقع میسر آتے ہیں اور وقت کی بچت بھی ہوتی ہے۔
کاروباری دنیا میں بھی اس ٹیکنالوجی نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔ بڑے ادارے فیصلے کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار کر رہے ہیں۔ ڈیٹا کے تجزیے، منڈی کے رحجانات کو سمجھنے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے اب انسان سے زیادہ مشینوں پر بھروسہ کیا جانے لگا ہے۔ اگرچہ اس سے کاروبار میں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں مگر ساتھ ہی کئی روایتی نوکریاں ختم بھی ہو رہی ہیں کیونکہ وہ کام جو انسان کیا کرتا تھا اب مشینیں زیادہ تیزی اور درستگی کے ساتھ انجام دیتی ہیں۔
ہماری روزمرہ زندگی بھی مصنوعی ذہانت کے زیرِ اثر آ چکی ہے۔ اسمارٹ فونز میں وائس اسسٹنٹ، آن لائن خریداری میں ہمیں پسند کی چیزیں تجویز کرنے والے نظام اور گھروں میں استعمال ہونے والے اسمارٹ آلات سب اسی ٹیکنالوجی کی پیداوار ہیں۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت ہماری زندگی کو زیادہ آسان، سہل اور دلچسپ بنا رہی ہے۔
لیکن اس کے ساتھ کچھ خدشات بھی وابستہ ہیں۔ پرائیویسی کا مسئلہ سب سے اہم ہے، کیونکہ ہماری ذاتی معلومات بڑی آسانی سے ان نظاموں میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ روزگار کے مواقع کم ہونا اور مشینوں پر حد سے زیادہ انحصار بھی فکر کا باعث ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ انسانی معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت ہماری زندگی میں ایک انقلاب لے کر آئی ہے۔ یہ انسان کے لیے ایک عظیم سہولت ہے لیکن اگر اس کا استعمال احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ نہ کیا گیا تو یہ نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو اپنی فلاح و بہبود اور معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔