ووٹر ادھیکار یاترا : راہل کی مقبولیت میں اضافہ

تاثیر 31 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار کی سرزمین پچھلے 16  دنوں سے راہل گاندھی کی قیادت میں’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ کی گواہ بنی ہوئی ہے۔ یہ یاترا، الیکشن کمیشن کی خصوصی گہری نظرثانی مہم(ایس آئی آر) کے خلاف احتجاج کے طور پر 17 اگست سے شروع ہوئی تھی۔آج یکم ستمبرکو پٹنہ میں وہ اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ایس آئی آر کے تحت بہار کے 65 لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جانے پر کانگریس نے اسے’’ووٹ چوری‘‘ قرار دیتے ہوئے جمہوریت پر حملہ بتایا ہے۔ تیجسوی یادو، ہیمنت سورین، دیپانکر بھٹاچاریہ، مکیش ساہنی اور انڈیا بلاک کے دیگر لیڈروں کی شرکت اور عوام کی زبردست حمایت نے اس’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ کو ایک متحد سیاسی جدوجہد کا عوامی پلیٹ فارم بنا دیا ۔
یاترا کی ساخت راہل گاندھی کی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ سے متاثر رہی ہے۔اس میں لیڈر عوام سے براہ راست رابطے کے لیے اسکولوں یا کیمپوں میں قیام کرتے رہے ہیں۔ 16 روز تک جاری رہنے والی اس یاترا نے بہار کے 22 شہروںمثلاََروہتاس، اورنگ آباد، گیا، نوادہ، نالندہ، لکھی سرائے، مونگیر، بھاگلپور، پورنیہ، کٹیہار، ارریہ، فاربس گنج، سپول، مدھوبنی، دربھنگہ، سیتامڑھی، مشرقی چمپارن، مغربی چمپارن، سیوان، چھپرا، مظفر پور اور آراکا سفر طے کیا۔ کانگریس کے تین چیف منسٹرز کے علاوہ تمل ناڈو کے ایم کے اسٹالن اور اتر پردیش کے سابق چیف منسٹر اکھلیش یادو کی شرکت نے انڈیا بلاک کی یکجہتی کی مضبوطی کو نمایاں کیا۔ عوامی ردعمل، خاص طور پر غریب، دلت اور اقلیتی طبقات یعنی ایس آئی آر سے متاثر لوگوں  کے لئے کافی حوصلہ افزا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس یاترا نے نہ صرف اپنے حق رائے دہی کے تئیں عوام کو بیدار کیا ہے بلکہ بہار میں کانگریس کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے بھی معاون ثابت ہوئی ہے۔
آج’’ووٹر ادھیکار یاتر‘‘ کاآخری دن ہے۔ا ختتامی پروگرام کو ’گاندھی سے امبیڈکر یاترا‘‘ کا نام دیا گیاہے ۔ آخری دن کی یاترا آج صبح 10:50 بجے گاندھی میدان سے شروع ہوگی، جہاں مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ یاترا ڈاک بنگلہ چوراہا، کوتوالی تھانہ، انکم ٹیکس چوراہا اورنہرو پتھ سے ہوتی ہوئی دوپہر 12:30 بجے بابا صاحب بھیم راو امبیڈکر پارک پہنچے گی۔ وہاں امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا، اور راہل گاندھی دوپہر 12:40 سے 2:30 بجے تک عوامی جلسہ سے خطاب کریں گے۔ اس یاترا میں لالو پرساد یادو بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اصل منصوبہ گاندھی میدان میں ایک بڑی ریلی کا تھا، مگر ضلع انتظامیہ نے شاید اجازت نہیں دی ہے، جسے کانگریس نے سیاسی سازش قرار دیا ہے۔چرچا یہ بھی ہے کہ راہل گاندھی گزشتہ شب گاندھی میدان میں ہی گزارنا چاہتے تھے، لیکن اس کے لئے بھی ضلع انتظامیہ سے اجازت نہیں ملی، اس لئے اس پروگرام کو ملتوی کرنا پڑا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ ووٹروں کے حقوق کی لڑائی ہے، جو یاترا کے اختتام کے بعد بھی جاری رہے گی۔
دوسری طرف، ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رات قیام کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ جلسہ کی اجازت مانگی گئی تھی۔ اجازت دے دی گئی ہے۔ جبکہ ریلی کے لیے عدالت عالیہ کے احکامات کے مطابق مشروط منظوری دی گئی۔ انتظامیہ نے میڈیا میں پھیلائی گئی خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے افواہوں سے بچنے کی اپیل کی ہے۔ ویسےیہ تنازعہ سیاسی بیان بازی اور انتظامی پابندیوں کے درمیان توازن کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ کانگریس کے الزامات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں، لیکن انتظامیہ کا دعویٰ کہ کوئی درخواست ہی نہیں آئی، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
تجزیاتی طور پر، یہ یاترا بہار کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ 1989 کے بھاگلپور فسادات کے بعد سے کمزور ہوتی کانگریس نے پہلی بار اتنی سنجیدگی دکھائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، پارٹی اس بار 55 سیٹوں پر چناؤ لڑے گی، جو ایک زیادہ توجہ مرکوز حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایس آئی آرکا معاملہ عوام کی زبانوں پر چڑھ گیا ہے، مگر کیا نومبر ماہ میں ہونے والے انتخابات تک یہ ماحول بنا رہے گا؟ یہ انڈیا بلاک کی صلاحیت پر منحصر ہے۔ یاترا کے دوران جوعوامی جوش و خروش دکھائی دیا ہے اسے بوتھ لیول تک لے جانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ راہل اور پرینکا گاندھی نے عوام کو متحرک کیا، مگر ووٹوں میں تبدیلی اتحادی پارٹیوں کی تنظیم پر منحصر ہے۔تاہم، یہ یاترا جمہوریت کی حفاظت کی ایک مضبوط آواز بن کر ابھری ہے۔ اگر انڈیا بلاک انتخابات تک اس ماحول کو زندہ رکھتا ہے، تو یہ بہار میں کانگریس کی بحالی اور اتحاد کی فتح کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ ایک علامتی تحریک تک محدود رہ جائے گی۔ راہل گاندھی نے بہار کے ووٹروں کا دل جیتنے کی کوشش کی ہے،اب وقت بتائے گا کہ ان کی یہ’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘  انتخابی نتیجہ کے طور پر  کتنی کامیاب ثابت ہوتی ہے۔
*************