تاثیر 1 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار کی سیاسی سرزمین پر ایک نئی لہر اٹھی ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی ’’ووٹر ادھیکار یاترا‘‘ کل بروز سوموار پٹنہ کے گاندھی میدان میں ایک زبردست شو آف اسٹرینتھ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ یہ یاترا، جو 17 اگست کوسہسرام سے شروع ہوئی تھی، تقریباً 1300 کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہوئے 23 اضلاع سے گزری اور تقریباً 110 اسمبلی سیٹوں کو چھوتی ہوئی اپنے اختتام کو پہنچی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بہار میں جاری ایس آئی آر کو ’’ووٹ چوری‘‘ کا آلہ قرار دے کر الیکشن کمیشن اور بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے اتحاد پرحملہ کرنا تھا۔ راہل گاندھی نے اسے بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے کی ایک بڑی سازش قرار دیا، جبکہ آر جے ڈی کے تیجسوی یادو، وی آئی پی کے مکیش ساہنی اور ماؤسٹ لیڈر دیپانکر بھٹاچاریہ جیسے اتحادیوں کی شرکت نے اسے انڈیا بلاک کی مشترکہ طاقت کا مظہر بنا دیا۔ راہل اور تیجسوی ایک ہی گاڑی میں سوار ہو کر عوام سے رابطہ کرتے نظر آئے، جو نہ صرف این ڈی اے کے خلاف ماحول سازی تھی بلکہ 2025 کی انتخابی حکمت عملی کی بنیاد بھی رکھ رہی تھی۔
اس یاترا کی کامیابی کے مد نظر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ کانگریس، جو ساڑھے تین دہائیوں سے بہار کے اقتدار سے دور ہے، اب اسے ایک نئی زندگی ملی ہے۔ یاترا نے پارٹی کے کیڈر میں جوش بھرا اور اس کی بارگیننگ پاور کو بھی بڑھایا ہے۔ 2020 کے انتخابات میں 70 سیٹوں پر لڑنے والی کانگریس اب زیادہ سیٹوں کا مطالبہ کر نے والی ہے۔اس یاترا کے ذریعے اس نے این ڈی اے کے 80 سے زائد مضبوط گڑھوں کو نشانہ بنایا ہے۔ خاص طور پر شمالی بہار کے متھلانچل علاقے، جیسے دربھنگہ، مدھوبنی، سیتامڑھی کے ساتھ ساتھ مشرقی اور مغربی چمپارن کو بھی۔ ان علاقوں کے دلت، پسماندہ، انتہائی پسماندہ اور مسلم ووٹرزکا جھکاؤ راہل گاندھی کی طرف صاف نظر آیا تھا۔ دربھنگہ کی چار سیٹوں (شہری، دیہی، کیوٹی اور جالے) سے گزرتے ہوئے، کانگریس نے اپنی پرانی کارکردگی کو یاد دلایا، جہاں پچھلے انتخابات میں وہ دوسرے نمبر پر رہی تھی۔ اسی طرح مدھوبنی کی پھولپراس اور کوشیشور استھان سیٹوں پر توجہ مرکوز کی گئی، جن کو لیکر آر جے ڈی اور کانگریس کے درمیان اندرونی طور پر رسہ کشی بر قرار ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ یاترا محض سیاسی شو نہیں بلکہ ایک حقیقی مسئلے پر مبنی تھی۔ایس آئی آر، جو ووٹر لسٹوں کی تصدیق اور اپ ڈیٹ کے لئے شروع کی گئی ہے، کے سلسلے میں راہل گاندھی اور دوسرے اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس کامقصد’’ووٹ چوری ‘‘ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی تناظر میں سوموار کو سپریم کورٹ میں بھی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے الیکشن کمیشن کی پوزیشن پر غور کیا۔ کمیشن نے بتایا کہ 1 ستمبر کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی ایس آئی آر سے متعلق دعوے اور اعتراضات قبول کیے جائیں گے، لیکن حتمی لسٹ شائع ہونے کے بعد۔عدالت نے ڈیڈ لائن بڑھانے سے انکار کر دیا مگر بہار لیگل سروسز اتھارٹی کو ہدایت دی کہ پیرا لیگل والیئنٹیئرز تعینات کیے جائیں تاکہ ووٹرز اور پارٹیوں کو آن لائن دعوے جمع کرانے میں مدد ملے۔ یہ والیئنٹیئرز ضلعی ججوں کو رپورٹ دیں گے۔ معاملے کی اگلی سماعت 8 ستمبر کو ہوگی۔ عدالت نے اسے’’اعتماد کا معاملہ‘‘ قرار دیا اور پارٹیوں کو فعال ہونے کا مشورہ دیا۔
یہ دونوں واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یاترا نے ایس آئی آر پر شکوک و شبہات کو عوامی سطح پر اٹھایا، جو اپوزیشن کے لیے ایک نعرہ بن گیا، جبکہ عدالت کی سماعت نے کمیشن کی شفافیت کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔ متوازن نظر سے دیکھیں تو یاترا کانگریس کو زندہ کرنے میں کامیاب رہی، مگر یہ آر جے ڈی کی ٹینشن بھی بڑھا رہی ہے، کیونکہ سیٹ شیئرنگ میں شہ مات کا کھیل ہو سکتا ہے۔ تیجسوی کو سی ایم چہرہ قرار دینے پر کانگریس کی خاموشی ایک حکمت عملی ہے تاکہ غیر یادو او بی سی اور اپر کاسٹ ووٹرز ناراض نہ ہوں۔ دوسری طرف ایس آئی آر پروسیس میں کمیشن کی یقین دہانیاں ایک مثبت قدم ہیں، مگر اپوزیشن کے خدشات برقرار ہیں کہ یہ این ڈی اے کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ اگرچہ عدالت نے ڈیڈ لائن نہیں بڑھائی، مگر والیئنٹیئرز کی تعیناتی سے ووٹرز کوضرور سہولت ملے گی۔اس عمل سے جمہوریت کی جڑوں کو مضبوطی ملے گی۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 2025 کے اسمبلی انتخابات میں یہ یاترا کانگریس کی بحالی میں کافی معاون ہو سکتی ہے، مگر اتحاد کی اندرونی کشمکش اور ایس آئی آر جیسے مسائل کا حل ضروری ہے۔ظاہر ہے، اگر عظیم اتحاد متحد رہا تو این ڈی اے کو سخت چیلنج ملے گا، ورنہ تقسیم کا فائدہ حکمران اتحاد کو ہوگا۔ اس وقت بہار کی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے، جہاں حقوق کی جدوجہد اور انتخابی انصاف مل کر نئی سمت دے سکتے ہیں۔

