تاثیر 2 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
چنڈی گڑھ، 2 ستمبر:پنجاب میں اپنی ہی حکومت پر سوال اٹھانے والے سنور کے رکن اسمبلی ہرمیت سنگھ پٹھانماجرا پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے۔ پٹھانماجرا اور اس کے ساتھیوں نے اس دوران پولیس پر فائرنگ کی اور ایک پولیس اہلکار پر چڑھ دوڑنے کی کوشش کی۔ پٹھانماجرا کو عصمت دری کے ایک پرانے معاملے میں ہریانہ کے کرنال سے گرفتار کرنے کے بعد پٹیالہ لایا جا رہا تھا۔
پٹھان ماجرا نے پیر کو ہی اپنی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ انہوں نے اپنے علاقے میں پانی بھرنے کے معاملے پر وزیر اعلی بھگونت مان پر حملہ کیا تھا۔ اس کے کچھ عرصے بعد پنجاب حکومت نے حلقہ سنور کے تمام تھانوں اور چوکیوں کے انچارجز کو تبدیل کر دیا اور کئی پولیس اہلکاروں کو لائن ڈیوٹی پر لگا دیا گیا۔ رات گئے پٹھانماجرا کی سکیورٹی کے لیے تعینات پولیس اہلکاروں کو واپس جانے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔
منگل کی صبح خبر آئی ہے کہ اسے پنجاب پولیس نے ہریانہ کے کرنال سے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ گرفتاری سے قبل پٹھان ماجرا نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب پولیس نے میری سابقہ ??بیوی سے متعلق ایک پرانے کیس میں مقدمہ درج کیا ہے۔ دہلی کی ٹیم پنجاب پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہی ہے اور میری آواز کو دبایا جا رہا ہے۔
پٹھانماجرا پر ان کی دوسری بیوی گرپریت کور نے 2022 میں اپنی پہلی شادی اور حملہ چھپانے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایک مبینہ فحش ویڈیو وائرل ہونے کی وجہ سے بھی سرخیوں میں رہے تھے۔ ہرمیت سنگھ پٹھانماجرا کے وکیل بکرمجیت سنگھ بھولر نے بتایا کہ پٹیالہ کے سول لائنز پولیس اسٹیشن میں یکم ستمبر 2025 کو پٹھانماجرا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں زیرک پور کی رہائشی ایک خاتون کی شکایت کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ خاتون کا الزام ہے کہ وہ 2013-14 میں سوشل میڈیا پر پٹھانماجرا سے واقف ہوئیں۔ آنند کاراج نے 2021 میں کروایا۔ ایک خاتون جو کہ ایم ایل اے کی دوسری بیوی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، گرپریت کور نے زیرکپور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی کہ ایم ایل اے اسے فحش ویڈیوز بھیج رہا ہے۔

