’اسرائیلی ریاست کی طرف سے غزہ میں نسل کشی قابل مذمت ہے:یوروپی یونین

تاثیر 5 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

برسلز،05ستمبر:یورپی یونین کے ایک اعلی عہدیدار نے اسرائیل کے خلاف اپنی تنقید میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی بڑھا رہا ہے۔ 27 ملکوں کے اتحاد یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس نسل کشی کو روکے۔ عہدیدار نے کہا فلسطینیوں کی نسل کشی اس امر کا اظہار ہے کہ یورپ ناکام ہوا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس سے روکنے کی آواز بلند کرسکا ہے نہ روک سکا ہے۔یہ بات یورپی کمیشن کی نائب صدر ٹریسا ربیرا نے پیرس میں ایک تقریر کے دوران کہی ہے۔ اسرائیلی ریاست نے اس یورپی عہدیدار کے خیالات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور الزام لگایا ہے کہ وہ حماس کی ترجمانی کرنے کا کام کررہی ہیں اور اسی لیے اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈا کر رہیں۔
اسرائیلی ریاست کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا ہے ہم سختی سے ان الزامات کی مذمت کرتے ہیں جو الزامات یورپی کمیشن کی نائب صدر ٹریسا ربیرا نے لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نسل کشی کا ڈھول پیٹنے کے بجائے انہیں چاہیے تھا کہ وہ حماس کی طرف سے کی جانے والی خون ریزی کی مذمت کرتیں اور حماس سے مطالبہ کرتی کہ وہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے اور اسلحہ چھوڑ دے۔اسرائیل کے ایک اور ترجمان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کہ غزہ میں نسل کشی ہورہی یا نہیں ان کا حق نہیں یہ عدالت کا کام ہے اور یہ خود فیصلہ نہ کریں۔خیال رہے یورپی یونین کے ممبر ارکان میں ان دنوں سخت اختلاف پایا جاتا ہے کچھ ارکان اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ غزہ جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔یورپی کمیشن کی نائب صدر ٹریسا ربیرا نے اس موقع پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ ہم سب نسل کشی روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے نسل کشی کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہوئے کہا یورپی یونین کے کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اسرائیل کے بارے میں سخت موقف لیں۔