تاثیر 5 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
انھوں نے قرآن پاک سے رشتہ استوار کرنے کی تلقین کی کہ کلام الٰہی کامیابی کے راستے پر ڈالنے کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ مہمان اعزازی مولانا محمد محسن، پرنسپل، وثیقہ عربک کالج، فیض آباد، اجودھیا نے کہا کہ نبیؐپاک نے اپنی زندگی کے پہلے چالیس سال عملی نمونہ پیش کیا، پھر بعد کے 23 سال عمل کی تلقین کی اور تبلیغ کی جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ عمل پہلے ہے اور تھیوری بعد میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بے شمار مصلحین اور ریفارمرز نے اصلاحات کا نظریہ پیش کیا، مگر ان کی زندگی عملی نمونہ سے خالی نظر آتی ہے۔ اس پہلو سے پیغمبر اسلام کی ذات منفرد ہے جنھوں نے پہلے عمل کیا اور پھر لوگوں کو اچھا بنانے اور اللہ کا راستہ دکھانے کے لئے تبلیغ کی۔ انھوں نے کہا کہ نیک عمل، اخلاق اور صبر و تحمل کی طاقت نے ہی عرب سماج میں انقلاب برپا کیا اور اسلام پھیلتا چلا گیا۔ وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ رسول اکرمؐ کی تعلیمات ہر دور کے لئے روشنی اور ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ حضرت محمد مصطفیٰؐ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا گیا۔ عرب میں جب اخلاقی اور سماجی بگاڑ تھا، ایسے دور میں حضور پاکؐ نے اسلامی تعلیمات و پیغامات سے سماج کے سبھی طبقات کے حقوق کا تحفظ کیا اور تمام مسائل کا حل پیش کیا۔
انھوں نے کہا ’’یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ اس سال نبی کریمؐکی ولادت باسعادت کو پندرہ سو سال مکمل ہورہے ہیں۔ یہ موقع ہمارے لئے ایک نئے عہد کا ہے کہ ہم دیکھیں کہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے جن تعلیمات نے جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدلا، کیا آج ہم ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں اپناپائے ہیں یا نہیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خاں نے کہاکہ نوجوانوں کو سیرت رسولؐکا مطالعہ کرنا چاہئے اور دینی کتابیں ضرور پڑھنی چاہئیں تاکہ وہ سیرت اور مبادیات اسلام سے واقف رہیں۔
انھوں نے اس سلسلہ میں یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی افادیت کا بھی ذکر کیا۔ اس سے قبل دینیات فیکلٹی کے ڈین پروفیسر محمد حبیب اللہ نے مہمانان اور حاضرین جلسہ کا پرجوش خیرمقدم کیا،پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور طلبہ و طالبات نے نعت پاک پیش کی۔

